زندگی پھولوں کی سیج نہیں

حنا انورزندگی پھولوں کی سیج نہیں لیکن ہمت سے کام لینا چاہئےہمیں آئے روز ایسی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں کہ نوجوان نے رشتہ ٹوٹنے پر خود کشی کر لی،لڑکی نے طلاق سے دلبرداشتہ ہو کر خود کو آگ لگالی،نوکری سے نکالے جانے کے بعد نیند کی گولیاں کھا لی۔یہ دلبرداشتہ ہو نا کیا ہے؟جب انسان کو ٹھکرا دیا جا تا ہے تو اسے شدت سے اپنی ذات کی تذلیل محسوس ہوتی ہے ،ایسے میں پہلے چند لمحے انسان بولنے کے قابل نہیں رہتا،اسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو گیاہے،دل کی دھڑکن حد درجہ بڑھ جاتی ہے،جی چاہتا ہے اس منظر سے انسان کہیں دور بھاگ جائے،بیماری محسوس ہو تی ہے،کچھ بھی کھانے کا جی نہیں چاہتا،چکر آنے لگتے ہیں اور کچھ لوگ تو بے ہوش ہو جاتے ہیں۔یہ سب بحیثیت ایک انسان محسوس کر نا نارمل بات ہے ،کچھ ہی دنوں میں اس کیفیت سے لوگ نکل آتے ہیں۔جبکہ کچھ لوگوں میں کئی دنوں تک یہ کیفیت برقرار رہتی ہے تو وہ زندگی ہی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔یہ حقیقت اٹل ہے کہ زندگی کبھی تو پھولوں کی سیج بن جاتی ہے اور کبھی یہ کانٹوں کامسکن۔لیکن جو بھی ہو چلتے رہنے کا نام ہی زندگی ہے۔رعنائیاں کب زندگی کی کڑوی کسیلی تلخیوں میں بد ل جائیں کو ئی نہیں جا نتا۔انسان ایک سما جی جانور ہے جو آنکھ کھولتا ہے تو پہلے منظر ہی میں کئی ہنستے مسکراتے چہرے اسے محبت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔پہلے ہی لمحے وہ کسی کے دل کا گوشہ بن جاتا ہے تو کسی کے جگر کا ٹکڑا۔وقت گزرتا ہے ،گھر سے باہر جاتاہے تو بارہا انسان کوایسے حالات سے بھی گزرنا پڑتا ہے جب اسے دوسروں کی جانب سے ٹھکرادیا جا تا ہے،مسترد کردیا جا تا ہے یا پھر نظر انداز کر دیا جا تا ہے،کوئی دل توڑ جا تا ہے،کبھی دل و جان سے عزیز دوست راہیں جدا کر لیتا ہے ،سکول سے نکال دیا جا تا ہے،یا پھر نوکری سے انکارہو جا تاہے۔صورت کو ئی بھی ہوٹھکرائے جانے کا احساس بے حد تکلیف دہ ہو تاہے۔اگرہم اس احساس سے پیچھا چھڑوانے میں ناکام ہو جائیں توانجانا خوف طاری ہو کر ہمیں مفلوج بنا دیتاہے۔اورپھرہر قدم اٹھانے سے قبل ہم پر ایسا خوف طاری ہو جاتا ہے کہ ہمارا اپنی صلاحیتوں سے یقین اٹھ جا تا ہے،ہمیں لگتا ہے ہم کسی کام کے نہیں،ذہین اور نہ ہی خوبصورت،بے وقعت۔اس احساس کو ہم اپنی سوچ کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے دیتے ہیں،جس سے پہلے ہمارا رویہ اور شخصیت بدلتی ہے اور پھر زندگی ہی بدل جا تی ہے۔حالانکہ اگر کو ئی ہمیں مسترد کر جا تا ہے تو ا س کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہو تا کہ اب زندگی ختم ہو گئی ہے۔ہمیں اس احسا س سے نکل کر اپنی زندگی کے کینوس پر پھر سے نظر دوڑانی چاہئے کہ اب اس کے بعد کیا ہوسکتا ہے،لیکن ہم کیا کرتے ہیں اسی غم کا لبادہ اوڑھے اوندھے منہ پڑے رہتے ہیں۔ہو سکتا ہے آپ کیلئے یہ ایک بڑ دھچکا ثابت ہواہو جس نے آپ کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔لیکن پھر بھی اچھے کی امید ضرور رکھنی چاہئے۔یقین کیجئے بڑے بڑے کامیاب لوگوں کو بھی شروع شروع میں نہ جانے کتنی بار مسترد کیا گیا،ان کے کام کو ،ان کے آئیڈیا ز کو لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہا ری اور آج ان کاکام ہی ان کی کامیابی کی پہچان بن چکا ہے۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جو کچھ ہم نے کھویا ہو،اس کی درحقیقت ہمیں ضرورت ہی نہ ہو ،محض ایک ظاہر ی تبدیلی ہمیںمتاثر کر گئی ہو۔یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ اس انکار میں کوئی سادہ سا سبق چھپا ہو ۔یاد رکھےے زندگی میں پیش آنے والی تمام ناکامیوں ،اور ٹھوکروں کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے جسے ہم اس وقت سمجھ نہیں پاتے۔

https://www.facebook.com/92women/photos/a.1569212209814196/1569251239810293/type=3

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی