زنانہ اعضائے تناسل کی بلغمی تھیلیوں

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎احباب زی وقار اجکی یہ تحریر اس بے زبان طبقہ کیلے ھے جو مار ے شرم کے کچھ بتاتے ھوے شرماتی ھیں یھی شرم ان کیلے موزی امراض کا بایث بن جاتی ھے سیلان الرحم لیکوریا

زنانہ اعضائے تناسل کی بلغمی تھیلیوں سے خاص قسم کی رطوبات خارج ہوتی رہتی ہیں اور یہ قدرت کی جانب سے ان کی حفاظت کا سسٹم ہے اور اس وجہ سے یہاں خشکی بھی نہیں ہوتی اور ان اعضاء کی حرکات آزادانہ جاری رہتی ہے یہی رطوبات کسی بے احتیاطی یا کسی مرض کے درد عمل میں اپنی تراوش زیادہ کرلیں یاان کی تیاری میں شامل انزائمز کی کمنی نیشن کی کمی بیشی سے ان رطوبات کا سیلان بڑھ جائے تو اس کی وجہ سے تکلیفات میں زیادتی سے مریضہ پر جسمانی کمزوری بے انتہا ہوجاتی ہے جبکہ زندگی کے بہت سارے معمولات ڈسٹرب ہو جاتے ہیں....

سیلان الرحم بذات خود کوئ مرض نہ ہے بلکہ یہ ان انزائمز کا سیلان ہے جو بلوغت کے بعد تمام خواتین کو حیض شروع ہونے سے قبل اور انڈا بننے کی پریکٹس کے دوران اور جماع کے وقت ہوتا ہے مگر جوں ہی ان کی آمد وشرزیادہ اور تسلسل سے ہوتا ہے اس کو بیماری ڈکلیئر کردیا جاتا ہے اور اس میں رحم کی سوزش,ورم یا رسولی پیدا ہونے کی اطلاع ہوتی ہے....

علاج ھوالشافی

گوکھرو دس تولہ, ناریل دس تولہ ان دونوں کو پیس کر پاوڈر بنالیں اس کو ایک چھٹانک دیسی گھی میں بھون لیں اور دس تولہ شکر پیس کر مکس کر لیں چوتھائ چمچ چائے والا دن میں دو ٹائم دودھ کے ساتھ استعمال کریں...

ایک ماہ تک مسلسل استعمال سے سیلان الرحم کو آرام آجائے گاانشاء اللہاحقرالعباد محتاج دعا حکیم محمدسجاداحمد مردان

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی