شوگر کنٹرول کا آسان نسخہ

شوگر کنٹرول کا آسان نسخہ

شوگر ایسا مرض ہے جس کو اگر کنٹرول نہ کیا جائے تو فالج اور دیگر خطرناک بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔ آج کل بچوں میں شوگر کا مرض بڑھ رہا ہے جو کہ جنک فوڈ زیادہ کھانے سے بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ یہ نسخہ شوگر کے خاتمے کے لئے بہترین ہے۔

نسخہ:

بادام: 100عدد میٹھےکالی مرچ: 100عددسبز الائچی: 100عدد چھلکے سمیتنیم کے پتے: 100عددکالے چنے بھنے ہوئے: ایک پاؤ چھلکے سمیت

چنے چھلکے سمیت لیں اور نیم کے پتے دھو کر خشک کر لیں ۔ اب تمام اجزاء کو باریک پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔آدھا چمچ صبح و شام کھانا کھانے کے بعد پانی کے ساتھ لیں۔ اس نسخہ کے استعمال سے شوگر کا لیول کنٹرول ہو جائے گا۔ آپکے لئے انتہائی محنت سے نسخہ تیار کیا جاتا ھے براہ کرم دوسروں کے لئے ہی شئیر کر دیا کریں۔۔Thnx a lot

پری ذیابیطسذیابیطس ہو جانے سے پہلے مریضوں کو پری ذیابیطس ہوتی ہے۔ پری ذیابیطس میں خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے لگتی ہے مگر ابھی اتنی زیادہ نہیں ہوئی کہ ذیابیطس تشخیص کی جائے۔ اگر سوچا جائے تو یہ ایک اچھا موقع ہے جس میں احتیاط شروع کر دیا جائے تو ذیابیطس سے بچا جا سکتا ہے۔ تمام دنیا میں پری ذیابیطس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انڈیا، پاکستان اور چین میں ان مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ذیابیطس ایک سنجیدہ بیماری ہے اور اس کے منفی اثرات پری ذیابیطس سے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سطح پر چونکہ کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ انہیں پری ذیابیطس ہے۔

پری ذیابیطس کیسے تشخیص کرتے ہیں؟بلکل اسی طرح جیسے ذیابیطس تشخیص کی جاتی ہے پری ذیابیطس کو بھی خون کے ٹیسٹ سے تشخیص کیا جاتا ہے۔ ان ٹیسٹوں میں اے-ون-سی، خالی پیٹ خون میں شوگر کا ٹیسٹ اور گلوکوز کو برداشت کرنے والا ٹیسٹ شامل ہیں۔اے-ون-سی5.7٪ سے کم –نارمل5.7 سے 6.4 تک۔ پری ذیابیطس6.5 سے زیادہ– ذیابیطسآٹھ گھنٹے خالی پیٹ ہونے کے بعد خون میں شوگر کا ٹیسٹ100ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم- نارمل100ملی گرام سے 126ملی گرام – پری ذیابیطس126ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ دو مختلف موقعوں پر – ذیابیطسدو گھنٹے والا منہ کے زریعے گلوکوز برداشت کرنے والا ٹیسٹ140ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم- نارمل140 سے 200ملی گرام فی ڈیسی لیٹر – پری ذیابیطس200 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ- ذیابیطسپری ذیابیطس کا علاجپری ذیابیطس کے وقتی علاج سے ذیابیطس سے بچ سکتے ہیں۔ کھانے پینے میں احتیاط ، باقاعدگی سے ورزش اور دوائیوں کے استعمال سے یہ بیماری درست ہو سکتی ہے۔ پانچ سے دس فیصد وزن میں کمی کرنے سے آپ اس بیماری کو بہتر کر سکتے ہیں۔

کن لوگوں کو پری ذیابیطس کا ٹیسٹ کروانا چاہئے؟ایسے تمام مریض جن کو ذیابیطس ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو ان کو پری ذیابیطس کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کی عمر پینتالیس سے زیادہ ہو، ان کے خاندان میں اور لوگوں کو ذیابیطس ہو، ایسی خواتین جن کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو گئی ہو، ایسے مریض جن کو ہائ بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کے زیادہ ہونے کی شکایت ہو اور وہ جن کو دل کی بیماری ہو۔آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ پری ذیابیطس کا نام سن کر آپ ہمت نہ ہاریں۔ یہ ایک نہایت قیمتی موقع ہے جس کے علاج اور احتیاط سے آپ ذیابیطس سے بچ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ذیابیطس کی بیماری کو کچھ سال ہو جائیں تو اس کو مینیج تو کر سکتے ہیں لیکن اس سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا۔ لاکھوں افراد کو پری ذیابیطس کا مرض لاحق ہے اور وہ اس سے لاعلم ہیں۔ڈائیبیٹک ریٹینوپیتھییہ شوگر کی بیماری کی وجہ سے ہونے والی آنکھوں کی ایسی پیچیدگی ہے جس میں مریض کی بصارت ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔تاہم خوش آئند بات یہ ہیں کہ اگر بروقت اس کا پتا لگا لیا جائے تو اس بیماری کو روکا جاسکتا ہےٹی ڈی سی کے مرکزی ہسپتال اسلام اباد بارہ کہو میں آنکھوں کی خصوصی نگہداشت کا مرکز قائم کیا جارہا ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے ذیابطیس اور اس سے متعلق تمام پیچیدگیوں کا علاج کیا جاسکے گا ۔ریٹینوپیتھی کی وجوہاتاگر خون میں شکر کی مقدار زیادہ عرصے تک مناسب نہ رکھی جائے تو آنکھ کی بصارت ضائع ہوسکتی ہے اس کی وجہ دراصل خون کی ان نالیوں کی خرابی ہے جو آنکھ میں ریٹینا کے ساتھ پائے جاتے ہیں شکر کی زیادتی کی وجہ سے یہ نالی یا تو پھٹ جاتی ہیں یا پھر ان میں خون کا بہاؤ رک جاتا ہے: ریٹینوپیتھی کی علاماتآنکھوں کی یہ پیچیدگی فورا نہیں پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے اس کی علامات میں دھندلا نظر آنا یا آنکھ کے پردے کے اوپر جگہ جگہ سیاہ نشانات کا نظر آنا شامل ہے: اس لیے زیابطیس کے تمام مریضوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ سال میں کم سے کم ایک مرتبہ آنکھوں کا معائنہ ضرور کرائیں: ریٹینوپیتھی کا پتا کیسے لگایا جاسکتا ہے ؟آنکھوں کی نگہداشت کے کلینک میں ایک مخصوص کیمرے کی مدد سے آنکھوں کے پردے کا معائنہ کیا جاتا ہے دی ڈاییابیٹس سنٹر میں جدید ترین کیمرے نصب کیے گئے ہیں جہاں آنکھوں کا معائنہ کیا جا سکتا ہے اس معاینے کے نتیجے میں آنکھوں کی بصارت میں ہونے والی تبدیلیوں کا پہلے سے علم ہو جاتا ہے اور بروقت علاج کے ذریعے آنکھوں کی بصارت ضائع ہونے سے بچا لی جاتی ہے: ریٹینوپیتھی کا علاجکہتے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے لہذا اگر آپ ذیابطیس کے مریض ہیں تو سالانہ بنیادوں پر اپنی آنکھوں کا معائنہ ضرور کرائیں ٹی ڈی سی کے سینٹر میں تمام مریض خود بخود سالانہ بنیادوں پر یہ سہولت حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آپ کی شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتے ہیں جس کے لیے نہ صرف یہ کہ دوائی دی جاتی ہیں بلکہ صحیح غذائی عادات بھی بتائی جاتی ہیں اس طرح شوگر اور بلڈ پریشر کنٹرول میں رہنے کی وجہ سے آپکو ریٹینوپیتھی ہونے کا اندیشہ کم ہوجاتا ہےتاہم اگر پھر بھی یہ پیچیدگی پیدا ہو جائے تو پہلے مرحلے میں دواؤں کی مدد سے علاج ممکن ہےمزید خرابی ہونے کی صورت میں سرجری کی جا سکتی ہے

https://www.facebook.com/DrMohammadAmjadMalik/photos/a.321664118204612/643952039309150/type=3

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی