Poly Cystic Overy Syndrome (PCOS) پولی سسٹک اووری

Poly Cystic Overy Syndrome (PCOS) پولی سسٹک اووری سینڈروم

تعریف۔۔۔۔۔۔۔۔۔PCOS وہ مرض ہے جس میں عورتوں کا ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمون کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اور خواتین کی بیضہ دانیوں میں سسٹ بننے لگتے ہیں۔ PCOS کی وجہ سے خواتین کے ماہانہ نظام۔ حمل کی صلاحیت۔ دل کے فعل اور ظاہری حسن و جمال پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور علاج نہ ہونے کی صورت ذیابیطس۔ امراض قلب اور بے اولادی جیسے گھمبیر مسائل جنم لیتے ہیں۔

ہارمون کیا ہیں۔ اور PCOS میں کیا واقع ہوتاہے۔؟؟؟ ہارمون ہمارے اینڈوکرائین سسٹم سے اخراج پانے والی کیمیائی رطوبات ہیں جو بشمول جسمانی گروتھ اور توانائی پیدا کرنے کے دیگر بہت سے جسمانی عوامل کو چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض ہارمون دیگر ہارمونز کے اجراء کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ سائنسدان ابھی تک ہارمونز کے غیر متوازن ہونے کے اسباب سے کلی آگاھی حاصل نہیں کر پائے۔ ایک ہارمون کی کمی بیشی دوسرے ہارمون کی پیدائش پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور دوسرا ہارمون کسی تیسرے ہارمون کی پیدائش پر اثرانداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جنسی ہارمون کا غیر متوازن ہونا اس میں زنانہ بیضہ دانی عموما معمولی مقدار میں مردانہ ہارمون اینڈروجن پیدا کرتی ہے۔ لیکن PCOS میں رفتہ رفتہ اووری سے مردانہ ہارمون کی پیدائش بڑھ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہر ماہ بیضوں کا اخراج متاثر ہوتا ہے۔ چہرے پر ایکنی اور جسم پر بالوں کی پیدائش غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ جسم میں انسولین کے انجذاب کا مسلہ پیدا ہوسکتا ہے اسے انسولین کی مزاحمت کہا جاتا ہے۔ جب انسولین خلیات میں نہ جذب ہوسکے تو خون میں گلوکوز کی مقدار جمع ہوکر بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح ذیابیطس پیدا ہونے کا خطرہ درپیش ہوتا ہے۔

پی سی او ایس کے اسباب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہرین ابھی تک PCOS کے اسباب مکمل طور پر نہیں جان پائے مگر اس مرض میں وراثتی خلل Genetic disorder کے شواہد ملے ہیں۔ PCOS کا مرض خاندان میں وراثتا منتقل ہوسکتا ہے اگر کسی خاندان کی دیگر خواتین میں PCOS ۔ ماہانہ نظام کی خرابی۔ یا شوگر پائی جاتی ہے تو اس خاندان کی باقی خواتین کو بھی اس مرض میں مبتلاء ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ PCOS ماں یا باپ دونوں اطراف سے اولاد میں منتقل ہوسکتا ہے۔

علامات۔۔۔۔۔ اس مرض کی علامات شروع میں کافی ہلکی اور غیر واضح ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ خاص علامات سے اس مرض کی پہچان کی جاسکتی ہے۔

1۔ ایکنی۔ چہرے کے سرخ دانے جن میں بعد ازاں پیپ پڑجاتی ہے اور گاہے پیپ خشک ہوکر کیل بن جاتے ہیں۔ ان کو دبانے سے کیلوں کی جگہہ پر سیاہ داغ بھی بن جاتے ہیں۔

2۔ لیکیوریا۔۔۔۔ شروع میں پانی جیسی رطوبت خارج ہوتی ہے لیکن بعد میں یہ رطوبت گاڑھی ہوکر سفید یا زرد رنگ کا جما ہوا بدبودار مواد تھکوں کی صورت بھی اختیار کرلیتا ہے۔

3۔ مینسز کا بگاڑ۔۔۔۔۔۔۔ شروع میں مینسز درد کے ساتھ اور کم آتے ہیں۔ عموما خون سیاھی مائل لوتھڑوں کی صورت آتا ہے۔ رفتہ رفتہ مینسز کم ہوتے جاتے ہیں۔ ان کا درمیانی وقفہ بڑھتا جاتا ہے۔ یعنی سال کے بارہ ماہ میں صرف 9 بار مینسز ہونا۔ پھر یہ وقفہ بڑھتا جاتا ہے اور بالآخر مینسز بند ہوجاتے ہیں۔

4۔ وزن بڑھنا۔۔۔ مینسز کم ہونے کے ساتھ ساتھ عورت کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔ جسم میں چربی پیٹ۔ کولہے وغیرہ پر جمنے لگتی ہے۔

5۔ جسم اور چہرے پر غیر ضروری بال آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ خواتین کے چہرے پر موٹے گھنے اور سیاہ بال نکل آتے ہیں۔ جو بڑھتے بڑھتے پیٹ اور پشت پر بھی نمودار ہوجاتے ہیں۔ جبکہ سر کے بال کمزور ہوکر گرنے لگتے ہیں۔

6۔ بےاولادی۔۔۔۔۔۔ مینسز میں بےقائدگی اور اوورین سسٹ کی وجہ سے بیضوں کا اخراج متاثر ہوکر حاملہ ہونے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ لیکن سسٹ کی موجودگی میں بھی پچاس فیصد حمل کے چانس ہوتے ہیں۔

اناٹومی و فزیالوجی بیضہ دانی Overy۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی تعداد دو ہوتی ہے۔ اور شکل میں بیضوی بادام جیسی ہوتی ہیں۔ لمبائی ڈیڑھ انچ۔ چوڑائی پونا انچ۔ موٹائی آدھا انچ اور وزن دو سے تین گرام ہے جو سن یاس میں ایک سے ڈیڑھ گرام رہ جاتا ہے۔ یہ گلٹیاں مردوں کے خصیوں سے مشابہہ ہوتی ہیں۔ ان میں ریت کے دانوں کی طرح آپس میں ملے ہوئے بیشمار بلبلے سے پائے جاتے ہیں۔ انہی بلبلوں کے اندر ovam یعنی بیضہ پائے جاتے ہیں۔ جب حیض آنے لگتا ہے تو یہ بلبلے پک کر پھٹتے ہیں اور ان سے بیضہ نکل کر قاذف نالی میں آجاتا ہے۔ اگر وہاں مرد کا سپرم اس بیضہ کو چھید کر اس میں داخل ہوجائے تو حمل قرار پاتا ہے۔ پھر یہی باردار بیضہ رحم میں جاکر اس کی دیواروں کے ساتھ چپک جاتا ہے۔

قاذفین نالیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دو عدد باریک نالیاں ہوتی ہیں۔ جو بیضہ کو اووری سے رحم تک پہچنے کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔ انہیں نل یا نلے بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی کمبائی 4-6 انچ تک ہوتی ہے۔ قاذف نالی کا اندرونی حصہ بہت تنگ ہوتا ہے۔ گویا بال بھی نہیں گزر سکتا۔ اس کا ایک سرا رحم کی بالائی طرف اور دوسرا صفاق کے جوف پہ کھلتا ہے۔ بالائی حصہ شہنائی کی مانند پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ جس کے سرے پر جھالر کی طرح بہت سے زوائد ہوتے ہیں۔ ان کو فیمبریا کہتے ہیں۔ ان زوائد میں سے ایک خصیتہ الرحم سے متصل رہتا ہے۔ یہ اس وقت مبیض کا خاص کر احاطہ کرتا ہے جب بیضہ خصیتہ الرحم سے گر کر اس میں آتا ہے۔

اوورین سسٹ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ سسٹ بیضہ دانی میں پائی جانے والی پانی کی تھیلیوں کو کہتے ہیں۔ یہ مرض پندرہ سے چالیس سال کی خواتین میں پایا جاتا ہے۔ اووری میں قشری سوزش کی وجہ سے جو اووم انمیچور رہ جاتا ہے۔ وہ وہیں رک جاتا ہے۔ حالانکہ اسے حیض کے ساتھ خارج ہونا چاہیئے تھا۔ یہی فولیکلز سوج ہوکر سسٹ کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔

تشخیص۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔۔ سب سے پہلے ماہانہ ایام کی حالت و کیفیت پوچھی جاتی ہے۔ نیز دیگر امراض کی ہسٹری معلوم کی جاتی ہے۔ 2۔ جسمانی معائنہ سے بلڈپریشر معلوم کیا جاتا ہے۔ کیونکہ PCOS کی مریضائیں شروع میں قشری عضلاتی سوزش کی وجہ سے فشار الدم قوی والی ہوتی ہیں۔ انہیں غصہ کافی آتا ہے۔ بلڈ پریشر کی وجہ کولیسٹرول ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں ضعف سے ان کی تحریک قشری اعصابی میں بدل جاتی ہے اور غصہ مسلسل نہیں رہتا۔ اس وقت قلب و عضلات میں تحلیل شروع ہوچکی ہوتی ہے۔ کچھ مریضاوں میں PCOS کے باوجود غصہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کا بلڈ پریشر کم رہنے لگتا ہے۔ 3۔ مریضہ کا قد اور وزن چیک کیا جائے۔ کیوں کہ موٹاپے کا آج کل سب سے بڑا سبب PCOS ہے۔ زیادہ وزن والی مریضہ قشری اعصابی میں چل رہی ہوتی ہے۔ چونکہ قشری اعصابی مریضہ کے عضلات میں ضعف ہوتا ہے۔ اس لیئے انہیں جسمانی دردیں اور پٹھوں میں کھچاو بھی رہتا ہے۔

4۔ مزید علامات جاننے کیلیئے درج زیل ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔

اول۔۔۔۔ لپڈز پروفائل اس ٹیسٹ میں کولیسٹرول۔ ٹرائی گلیسرائیڈ۔ HDL. LDL اور VLDL شامل ہیں۔ دوم۔۔۔۔۔LFT اس میں ALT ALP AST اور سیرم بلیروبن سے جگر کی کیفیت و سوزش اور اینزائمز کی مقدار معلوم ہوتی ہے سوئم۔۔۔۔۔۔۔RFT اس ٹیسٹ میں بلڈ یوریا۔ سیرم کریٹینائین۔ اور سیرم یورک ایسڈ کی صورت حال معلوم ہوتی ہے۔ چہارم۔۔۔۔۔ CBC اگر اندرونی انفیکشنز بن چکے ہوں تو اس ٹیسٹ سے بلڈ سیلز کی مقدار و تعداد معلوم ہوتی ہے۔

5۔ ایبڈومینل الٹراساونڈ۔۔۔۔۔۔۔ اس ٹسٹ میں اندرونی اعضاء گردے کی پتھری کا سائز ۔ گردے کا سائز۔ پتے کی پتھریوں کا پتہ چلتا ہے۔ نیز بیضہ دانی کی سسٹ کی اقسام اور سائز کا علم ہوتا ہے۔ جگر اور طحال کا سائز معلوم ہوتا ہے۔ الغرض یہ ٹیسٹ بہت ضروری اور تشخیص میں معاون ہے۔

6۔ ہارمونل ٹیسٹ۔۔۔ ان ٹیسٹس کے زریعے ہارمونز کے ان بیلینس ہونے کا تخمینہ حاصل ہوتا ہے۔ ان کے مطالعے سے تھائی رائیڈ کے مسائل معلوم ہوتے ہیں۔

7۔ بلڈ شوگر اور انسولین ٹیسٹ۔

علاج بالنظریہ مفرد اعضاء اربعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پی سی او ایس کے علاج میں دوائی اور جراحت کے علاوہ تین بنیادی امور کی پابندی بہت ضروری ہے۔ 1۔ باقائدہ ورزش۔۔۔۔۔۔۔ صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے۔ سحر خیزی۔ پیدل چلنا بہترین عادات ہیں۔

2۔ باپرہیز کھانا۔۔۔۔۔۔۔۔ گوشت ہر قسم۔ چکنائیاں۔ انڈے۔ بیکری آئیٹمز۔ کیفین والی اغذیہ۔ پیزے۔ برگر۔ شوارمے۔ پیپسی۔ کولے۔ چاہے۔ فاسٹ فوڈ۔ مرغن اغذیہ۔ مرچ مصالحے وغیرہ سے پرہیز ضروری ہے۔ ریض کو اغذیہ معالج کی ہدایت کے مطابق لینی چاہیئیں۔

3۔ وزن پہ قابو رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چکنائیوں پہ کنٹرول۔ مناسب ورزش وغیرہ سے خود کو سمارٹ رکھنا بہت ضروری ہے۔ 4۔ حقہ۔ سگریٹ وغیرہ خواتین میں اینڈروجن ہارمون کا لیول بڑھادیتے ہیں جس کی وجہ سے PCOS تیزی سے بڑھتا ہے۔۔۔

ادویاتی علاج۔۔۔۔۔۔ مریضہ کے مزاج کے مطابق کیا جاتا ہے

تحریر و تحقیق۔۔۔ ھومیوپیتھک ڈاکٹر سید رضوان شاہ گیلانی۔

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی