پاگل پن اور اس کا ہومیوپیتھک علاج

INSANITY

یعنی دیوانگی یا پاگل پناور اس کا ہومیوپیتھک علاج پر بات ہو رہی ہے تقریباًہومیوپیتھک کی 6 ادویات پر پہلے بات ہو چکی ہے اور آج کچھ مزید ادویات پر بات کرتے ہیں کہ اس مرض میں ہومیوپیتھک ادویات کون کون سی علامات پر کونسی دوائی دی جا سکتی ہے سب سے پہلے تو مجھ سے اگر لکھنے میں کوئی غلطی ہو جائے تو اس کی نشاندہی کر دی جائے یا اس کو درست کر کے میری رہنمائی کی جائے نا کہ تنقید برائے تنقید تو اپنے ٹاپک پر آتے ہیں آج میں جس دوائی کے بارے میں پہلے لکھنا چاہتا ہوں اس کا نام ہےBELLADONNa(بیلا ڈونا)اس دوائی کے مریض کو وہم میں یا دیوانگی کی حالت میں بھوت پریت اور کیڑے مکوڑے یا سیاہ رنگ کے کتے وغیرہ دکھائی دیتے ہیں اور ہر وقت اس کے اندر یہ ہی خوف رہتا ہے کہ مجھے پولیس والے پکڑ کر لے جائیں گےیا پھر شیطان سے باتیں کرتا رہتا ہے اس دوائی کا مریض اگر گھر سے باہر جائے تو اس کو ہر وقت گھر واپس جانے کی فکر لگی رہتی ہے اور اس کو یہ وہم بھی ہوتا ہے کہ اس کے گھر کی ہر چیز کو آگ لگا کر کسی نے خاک کر دیا ہے اس دوائی کا مریض بڑی ہی حیت انگیز حرکتیں کرتا ہے بھاگ جانا چاہتا ہے چھپ جانا چاہتا ہے اور دیونگی کی حالت میں یہ بڑا ہی مسخرانہ انداز اختیار کر لیتا ہے کبھی کتے کی طرح بھونکتا ہے کبھی ناچتا ہے گاتا ہے اور اچھلتا ہے اس دوائی کے مریض کی ایک یہ بھی پہچان ہے کہ اس دوائی کے مریض میں جب سر کی طرف اجتماع خون زیادہ ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں کون کی طرح سرخ ہو جاتی ہیں اور مریض بہت جلد غصے میں آ جاتا ہے اور غصے کی حالت میں اس دوائی کا مریض اپنے کپڑے تک پھاڑ دیتا ہے اور دوسروں کو کاٹتا ہے مارتا ہے چیختا ہے اور ہیاں تک کے دیوانگی کی حالت میں یہ گدھے کی طرح دوسروں کو ٹانگیں بھی مارتا ہے بلکہ غصے کی حالت میں اس دوائی کے مریض کے چہرے پر بہت زیادہ دہشت ہوتے ہے اور اگر اس حالت میں اس کوئی کوئی چھونے کی کوشش کرے تو اس کو کاٹنے کی طرف دوڑھتا ہے -PHOSPHORUS(فاسفورس)اس دوئی کے مریض کو اگر دوسرے پہلو سے دیکھیں تو بہت ہی پیار کرنے والا ہوتا ہے کہتے ہیں کہ اگر اس دوائی کے مریض کو ایک بار مل لیا جائے تو بار بار ملنے کو دل کرتا ہے لیکن اس بیماری یعنی دیوانگی میں اس کو کسی اور شکل میں دیکھا جاتا ہے ایسے افراد جو جلق کی وجہ سے یا حد سے زیادہ جسنی مشاغل میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کو پاگل پن ہو گیا ہوتو ان کیلئے یہ دوائی بڑی مفید ہوتی ہے -اس بیماری کی وجہ سے اس میں یاداشت کی کمی ہو جاتی ہے یہاں تک بھول جاتا ہے کہ ابھی کیا ساچا تھا اور اس سوچ کی وجہ سے بہت جلد پریشان ہو جاتا ہے اس دوائی کے مریض کو اپنا دماگ کبھی بھی آرام کی حالت میں نہیں ملتا بلکہ تیز تیز خیالات اس کو پاگل بنا دیتے ہیں اس میں بھی باتونی پن بہت پایا جاتا ہے اور اس کے زہن میں کیالات اس قدر تیزی سے آتے ہیں کہ اگر اس کو کبھی بولنا پڑھے تو گنھٹوں بڑے جوش اور بڑے اعتماد کے ساتھ بول لیتے ہیں اور بعض اوقات یہ مریض دیوانگی کی حالت میں غیب کی بھی باتیں بتاتا ہے بلکہ اس دوائی کا مریض اپنے آپکو بہت بڑا آدمی سمجھتا ہے اور خاص کر بوڑھے لوگ جن میں مجنونانہ حرکات پائی جائیں اور ادھیڑ عمر میں ان کے اندر بے حیائی پائی جاتی ہے اور اپنے آپکو بوڑھاپے کی عمر میں ننگا کرنے کی خواہش بھی پائی جاتی ہے -NUX VOMICA(نکس ومیکا )ایسے افراد جو بہت زیادہ ایلوپیتھک ادویات کھا چکے ہوں اور یا کافی وغیرہ کو غلط اور کثرت کے ساتھ استعمال کر چکے ہوں یا دماغی محنت حد سے زیادہ کر چکے ہوں اور مسلسل راتوں کو جاگ جاگ کر کام کر کر چکے ہوں اور ان میں اگر یہ بیماری یعنی دیوانگی یا پاگل پن آ چکا ہو یا پھر ایسے افراد جن کو لگا تار گھریلو پریشانیوں نے جکڑ لیا ہو اور ایسے لوگ ایک ہی شے کے بارے میں لگا تار باتیں کر تے ہوں تو ایسےافراد کیلئے یہ دوائی بہت اچھا کام کرتی ہے-جاری ہے باقی کچھ اور ادویات کے بارے میں مزید بات ہوگیہومیوپیتھک ڈاکٹر امان اللہ بھدر کامونکینا لج ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن پاکستان (K H M A

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی