نظام تشخیص طب کے تحت علاج

جناب مشتاق احمد صاحب لاہور کا کرشماتی نظام تشخیص طب کے تحت علاج کروانے اور مزاج کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کی لکیریں بدلنے اور نٸی پیدا ہونے کا مکمل ثبوت ریکارڈ کی صورت میں ہر سمجھ دار انسان غور کرنے پر لکیروں کی زبان مزاج کے مطابق دیکھ سکتا ہے ۔۔۔اس پیارے بھاٸ نے مکمل مشاہدہ دوا کھا کر ریکارڈ رکھ کر کر لیا ہے انہوں نے یہ ریکارڈ مجھے بھیجا ہے جو کہ میں تمام بھاٸیوں کے ساتھ شٸیر کر رہا ہوں ۔۔۔۔دوسری بات کہ اللہ نے مجھے یہ علم اپنے فضل سے ایسے عطا کیا ہے کہ یہ میرے لیے انتہاٸ آسان ہے اور انشإاللہ میں جس کو سکھاٶں گا اس کے لیے بھی بھت آسان ہو جاٸے گا ۔۔۔الحمد للہ رب العالمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب مشتاق احمد صاحب لاہور کی تحریر ملاحظہ فرماٸیں ۔۔۔۔۔شکریہ ۔۔۔۔۔

اسلام علیکمدوستوں ابھی چار پانچ روز پہلے نا چیز نے دو کمنٹس لکھے تھے حکیم شھباز صاحب کے ساتھ بلمشافہ ملاقاتوں کے حوالے سے جو کہ حکیم صاحب کیطرف سے بابت سو فیصد درست تشخیص مزاج مریضان اور اور تجویز ادویہ بمطابق تشخیص مریضحکیم صاحب نے بطور حوالہ میرے کمنٹس کو بیان کیا تھامیں نے سوچا کہ ہو سکتا ھے کوئی گروپ کے دوستوں یا چند اور پڑھنے والوں کو یہ خیا گزرا ہو کہ یہ تمام زبانی جمع خرچ حکیم صاحب کی مشہوری کیلئے کیا گیا ہوحکیم صاحب کا طریقہ تشخیص قسم مزاج مریض ہاتھوں کی لکیروں کے ذریعے سے اور اس کی روشنی میں دوائی تجویز کرنا مریض کے صحت یابی کیلئے اور کی جانب کامیاب حکمت کا بنیادی اور اہم اصول ھےاور یہی حکیم صاحب کا طرء امتیاز جو کہ میں نے پہلی بار ان کے ہاں جاناچونکہ پچانوے یا اٹھانوے فیصد ڈاکٹر اور حکیم میرے علم کے مطابق مریض کی بتائی گئی علامات سن پوچھ کر بغیر بمطابق تشخیص مزاج مریض دوائیاں دیتے ہیںاور دوسری وجہ کثیر تعداد مریض حکماء کی کتابوں میں سے یا سوشل میڈیا پر بتایا گیا نسخہ خود سے تیار کرکے بغیر اپنا مزاج کی قسم جانے استعمال کرناسو اکثر کثیر تعداد مریض جن کی بیماری کرانک chronic ہوتی ھے اور مدافعتی نظام بھی کمزور ترین تو بجائے فائدہ کے مریض کے مزاج کی ہیئت تبدیل بگاڑ تبدیلی تیا پانچہ یا تہس نہس ہو جاتا ھےایسی صورتحال میں کئی ہفتے یا مہینے تو مریض کے مزاج کے بگاڑ کو ٹھیک ہونا اصلاح کرنا اعتدال پر لانے کیلیے درکار ہوتےہیںلیکن جو میں نے حکیم صاحب کا طریق نوٹ کیا کہ دوبارہ مریض کے آنے پر ہر دفعہ باریک بینی سے لکیروں میں تغیر اور تبدیلی ہونے کا مطالعہ اور معائنہ کرتے پھر دوائی کا انتخاب کرتے ہیںسو میں گزشتہ تین ماہ میں لکیروں میں واقع ہو رھی تبدیلی شعر کرتا ہوں جو کہ تسلی بِخش اس وجہ سے نہیں ھے کہ ہر مہینے میں ہفتہ دس دن تو دوائی ختم ہو جانے اور بروقت دستیاب نا ہونے کی وجہ سے وقفہ پیدا ہو جاتا رھا ھے جس کی وجہ حکیم صاحب کا لاہور مطب پر بروقت نا آنا ہوتی رھی ھےاگر حکیم صاحب نے لاہور مطب پر ہر ماہ موجودگی پابندی کے ساتھ برقرار نا رکھی یہاں پر دور و نزدیک سے آنے والے مریضوں کے حکیم صاحب کے متعلق اعتماد اور اعتقاد مجروح ہوجائے گا اور بدل ہوجائینگے کیونکہ دوائی پابندی سے نا مل سکنے کی وجہ علاج کا تسلسل برقرار نہیں رہتا ھے ۔۔۔

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی