منرلز میں زنک ایک انتہائی ضروری دھات

منرلز میں زنک ایک ایسی دھات ہے جس کی موجودگی ہمارے جسم کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 31 فیصد افراد زنک کی کمی کا شکار ہیں ۔زنگ صحت مند جلد اور بالوں کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔اس سے زخم تیزی سے مند مل ہوتے ہیں ۔حمل کامیاب رہتے ہیں اور مردانہ قوت برقرار رہتی ہے ۔یہ انفیکشن اور بیماریوں سے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔آنکھوں کو وٹامن اے پہنچانے کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔جسم میں موجود تمام انزائمزکی کارکردگی زنک کی مرہون منت ہوتی ہے ۔نشونما اور جنسی بلوغت کا انحصار دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ زنک پر بھی ہے ۔زنک عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرتا ہے ۔زنک کا ہارمون توازن پر بھی ایک بڑا اثر ہے ۔۔یہاں تک کہ تھوڑی سی زنک کی کمی بانچپن یا ذیابطیس کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے ۔بچوں کے قد چھوٹے رہے جانے کی وجہ بھی زنک کی کمی میں سے ایک ہے ۔جنسی عوامل دیر سے شروع ہونا, نظام انہظام اکثر خراب رہنا,بالوں کا کمزور ہونا یعنی گنجاپن ظاہر ہونا, جسم میں طرح طرح کے نشانات ظاہر ہونا, پیشاب کی زیادتی یعنی بار بار آنا زنک کی کمی کی علامت میں سے ہے ۔حملہ عورتوں میں زنک کی کمی بچے کی نشونما پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے۔بچے کی دماغی نشوونما اور ڈھانچے بری طرح متاثر ہوتا ہے دانتوں کی شکل پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ایسی عورتوں میں جن میں زنک کی کمی ہوتی ہے اسقاط حمل بہت دیکھنے میں آتا ہے ۔وہ لوگ جن کے زخم ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہو۔یا وہ لوگ جن کے ناخنوں پر سفید دھبے یا متعدی بیماری میں مریض کے ذائقے کی حس ختم ہو جاتی ہے ایسا عموما برونکائٹس کے مریضوں میں دیکھا جاتا ہے ۔زنک کی کمی کی عام علامات میں ہیضہ ،بالوں کا گرنا ،بھوک کا کم ہونا ،زخموں کا دیر سے مند مل ہونا ،سردرد اور نقاہت شامل ہے ۔جلد کا خشک اور کھردری ہونا ،بے رونق بال ،آرام سے کٹ جانے والے ناخن ،جنسی کمزوری ،چہرے پر کیل مہاسوں کا نکلنا شامل ہے ۔ایسے افراد جو دوائیوں کا استعمال بکثرت کرتے ہیں اور ایسی خواتین دوران حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلاتی ہیں یا وہ بچے جن کو ماں کا دودھ میسرنہیں آتا ہو یا ایسے بچے جن میں جنسی حصّوں کی نشونما نارمل نہ ہو رہی ہو۔نوجوان بچے جن کے چہرے پر کیل مہاسوں کی وجہ سے پریشان ہوں ان کو چاہیے کہ وہ اپنی غذا میں زنک کا استعمال کریں.وہ مریض جو بیماری کے دوران زنک کا استعمال کرتے ہیں تو ان کی بیماری کا عرصہ کم ہوجاتا ہے ۔

ایک 6 ماہ کے بچے کو یومیہ 2 ملی گرام زنک چاہیے ہوتا ہے ۔7 سے 12 ماہ کے بچے کو 3 ملی گرام1 سے 3 سال کے بچے 3 ملی گرام4 سے8 سال کے بچے کو پانچ ملی9 سے 13 سال کے بچے کو 8 ملیگرام14 سے 18 سال کی لڑکی کو 9 ملیگرام14 سال سے لے کر ایک مرد کو 11 ملیگرام19 سال سے لے کر ایک عورت 8 ملیگرام کی ضرورت ہوتی ہے.

زنک کی ایک قسم قدرتی کھانے کی مصنوعات میں موجود ہے ۔سیپیوں میں زنک کی مقدار زیادہ تناسب میں موجود ہوتی ہے ۔سب سے زیادہ لوگ سرخ گوشت اور مرغی سے روزانہ زنک کی بڑی مقدار حاصل کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ کچھ سمندری غذا (کیکڑے )کاجو ،دودھ وغیرہ میں بھی زنک کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے ۔اگر آپ کو زنک کی کمی کا احساس ہو تو آپ باقاعدگی سے ایسی غذائیں کھائیں جس میں زنک پایا جاتا ہو۔زنک بازار میں ملنے والی چوسنے والی ٹیبلٹ ،سیرپ، جیل اور کیپسول سمیت مختلف شکلوں میں عام طور پر دستیاب ہے ۔زنک زیادہ ملٹی وٹامن اور معدنی سپلیمنٹ میں بھی پایا جاتا ہے ۔یہ سپلایززن گلوکونیٹ، زنک سلفیٹ یا زنک ایسیٹیٹ کی شکل میں ذنک شامل ہوسکتا ہے ۔زیادہ بہتر ہے کہ زنک کو قدرتی طریقےیعنی نیچرل فوٹ سپلیمنٹ سے حاصل کیا جائے ۔شیف اسد

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی