مجامعت کرنے سے خوف انا

مجامعت کرنے

سے خوف انا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ابھی رکھا ہی تھا کہ کہ چھوٹ گیا پھول ھاتھ سے گلاب کا

السلام عليكم قابل احترام دوستو اج میی دوستوں کو بتانا چاہتا ھوں کہ

۞جنسی صحت کو قائم رکھنے کا نسخہ۞ایک جماع سے دوسرے جماع میں وقفہ کتنا ہونا چاہیے جس سے قوت مردانہ میں کمی واقع نہ ہواور جب بھی جماع کیا جائے اس سے حقیقی لطف حاصل ہو حقیقی لطف حاصل ہونے سے مردکی جنسی قوت کمزور نہیں ہوتی اور عورت بھی مطمئین اور خوش رہتی ہے طبی لحاظ 3سے 7 یوم بعد جماع کرنا چاہیے 3 دن سپرمز بنتے ھیں اور 4 دن بعد تحلیل ھوکر جسم کا حصہ بن جاتے ھیں کیونکہ دن میں دو بار یا روزانہ جماعکرنے سےچند ہی روزمیں شدید کمزوری سستی اور بلڈ پریشر کا لاحق ھوسکتا ھے اور اکثرجوڑوں کاپانی ختم ہو جاتا ہےجوانی میں گوڈے آواز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نقصان کی کسی بھی صورت تلافی نہیں ہوسکتی خلاف ورزی کرتے رہنے سے آخرکو افسوس کرنا پڑتا ہے ذیادہ منی کا اخراج بار بار نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ چیزانسانی جسم میں وافر مقدار میں نہیں بنتی طبی لحاظ 4سے 7 یوم بعد جماع کرنےسے جسم میں کسی قسم کی کمی یاں کمزوری نہیں ہوتی اورقدرتی حقیقی لطف حاصل ہوتا ہےہمارے ہاں اکثر لوگ منی کی ماہیت یعنی nature کے حوالے سے بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ یہ گاڑھی ہے یا پتلی ، تھوڑی ہے یا زیادہ اس کا رنگ کیسا ہے وغیرہ وغیرہ - ہر آدمی کی nature کے لحاظ سے اس کی منی میں بھی فرق ہوتا ہے-اس کا مردانہ قوّت کے ساتھ ہر گز کوئی تعلق نہیں ہوتا- سواے اولاد پیدا کرنے کے منی کا اور کوئی کام نہیں ہوتا منی کے ذریے صرف نطفہ یعنی سپرمز باھر آتے ہیں جو مباشرت کے دوران عورت کے رحم میں جا داخل ہو کر حمل ٹھہراتے ہیں- اس کے علاوہ منی نطفہ کے لیے زندگی ہوتی ہے جس طرح oxygen انسانوں کے لیے ضروری ہوتی ہے- منی کو جوہر حیات کہا جاتا ہے یا منی کے ایک قطرے کو خون کی سو بوندوں کے برابر بھی کہا جاتا ہے جو کے سراسر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے- میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں اگر منی کا ایک قطرہ خون کی سو بوندوں کے برابر ہو تو ایک دن میں تین سے چار بار masturbation کرنے والا بندہ تو زندہ ہی نہ رہے- اس لیے یہ خیال بکل غلط ہے کہ منی کا ایک قطرہ خون کے سو قطروں کے برابر ہے-جو کچھ ہم کھاتے ہیں ہم کھاتے ہیں وہ ہمارے معدے میں جا کر ہضم ہوتا ہے خوراک کا کچھ حصّہ فالتو ہو کر نکل جاتا ہے جب کے باقی کا حصّہ پہلے ایک جوس کی شکل اختیار کرتا ہے ، پھر اس سے خون بنتا ہے- خون پورے جسم میں سرکولیٹ کرتا ہے- پھر اس سے گوشت بنتا ہے پھر چربی بنتی ہے اس کے بعد ہڈی اور ہڈی کے بعد ہڈی کا گودا جو اس کے اندر ہوتا ہے وہ بنتا ہے اور سب سے آخر میں منی بنتی ہے- منی ایک لیس دار چیز ہوتی ہے جس میں ایک خاص قسم کی بو پائی جاتی ہے- اگر یہ کپڑے پر لگ جائے تو کپڑا اکر جاتا ہے - ایک بات کی مباشرت سے تقریبا بارہ گرام منی خارج ہوتی ہے- اور اس میں دو سو لاکھ sperms ہوتے ہیں یہ sperms اگر خورد بین بین سے دیکھے جاین تو سانپ کی شکل کے ہوتے ہیں اور حرکت کر رہے ہوتے ہیں ایک صحتمند آدمی کے سپرمز تیزی سے حرکت کرتے ہیں جب کے بیمار آدمی کے سپرمز آہستہ آہستہ حرکت کر رہے ہوتے ہیں اور یہ سب ہارمونز کی کمی بیشی یا خوراک کی کمی زیادتی کی وجہ سے ہو جاتا ہے اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے- اگر ایسا کبھی ہو بھی جائے توwell qualified سے ہی مشورہ کریں۔

جریان منیمردوں کو پیشاب یا پا خانہ سے پہلے یا بعد میں ذکر penis میں سے سفید رنگ کا مادہ خارج ہوتا ہے اسے ان نیم حکیموں کی زبان میں جریان کہتے ہیں- اسے نیم حکیم بہت ہی بری بیماری کا نام دیتے ہیں جب کے ایسا کچھ نہیں ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے- حکیموں کے مطابق یہ ایک خطر ناک بیماری ہوتی ہے اور اس کا علاج کرواے بغیر شادی نہیں کی جا سکتی اور یہ مرد کو جنسی لحاظ سے کمزور تر کر دیتا ہے وغیرہ وغیرہ جب کے ان سب باتوں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے- اس کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ جب مرد پیشاب یا پا خانے کے لیے زور لگاتا ہے تو اس کے Urethral gland میں سے زور لگانے کی وجہ سے ایک سفید رنگ کا مادہ نکلتا ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں ہے میڈیکل سائنس کے لحاظ سے اس مادے کا نام نہاد جریان سے کوئی واسطہ نہیں ہے نہ ہی یہ کوئی کمزوری کی علامت ہے اور نہ ہی اسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے-

قطرےاس کے بارے میں سب سے زیادہ حالت فہمیاں پی جاتی ہیں اور یہ نیم حکیموں کا پیسے بٹورنے کا سب سے برا اور کامیاب طریقہ کار ہے- پہلے یہ جان لیں کہ قطرے هوتے کیا ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اور یہ آتے کیوں ہیں آپ کی ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی-

مرد کے ذکر penis میں سے ایک رطوبت خارج ہوتی ہے جو تھوڑی تھوڑی کر کے یعنی قطرہ قطرہ خارج ہوتی ہے اس لیے اسے قطرے آنا کہتے ہیں- یہ قطرے آتے کب ہیں کیا آپ نے کبھی اس کے بارے میں سوچا ہے ؟

نوٹسوشل میڈیا پر تحریر نسخہ جات بنانے سے گریز کرییمشورہ علاج کے لیے ایڈمنیا انباکس رابطہ کریی

حکیم محمدارشد سرگودھا

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی