کھانوں کو کیسے محفوظ بنا سکتے

ایک تحریر میری طرف سے ضرور پڑھیے گا ۔آپ اور آپ کے بچوں کے نام

ہم اپنے کھانوں کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں ؟۔ہم کو اپنے کھانے کیسے بنانے چاہیے ؟کچن سامان کی خریداری کیسے کرنی چاہیے ؟اور کس طریقے سے سامان کو محفوظ کرنا چاہیے؟اور کس طرح حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا بنایا جائے؟؟؟تاکہ ہم اپنے خاندان کو مختلف بیماریوں سے بچا سکیں ۔ ہم ان سب چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے اور جب مسائل ہمارے سامنے ہوتے ہیں تو وقت گزر چکا ہوتا ہے ۔آج کل ہم کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ہمارا لائف اسٹائل جس کو ہم جدید( Modern )کہتے ہیں ۔وہ کس طرح ہم اور ہمارے معاشرے کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جا رہا ہے ۔جن کا ابھی کچھ نہیں بگڑا وہ خاموش ہیں ۔لیکن ہم نے اگر اس طرف توجہ نہیں دی تو خدانخواستہ کہیں دیر نہ ہوجائے ۔میں خاص طور پر آپ کے بچوں کی بات کرونگا ۔جن کے لیے ہم سب کچھ کرتے ہیں ۔وہ اس وقت سب سے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں کیونکہ آپ نے تو اپنا وقت گزار لیا ہے ۔لیکن اب ان بچوں کو آپ کی خاص توجہ کی ضرورت ہے ۔آپ کہیں گے کہ ہم تو سب کچھ ان ہی کے لئے کرتے ہیں ۔لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کے آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ آپ ،اپنے آپکےساتھ اور اپنے بچوں اور اپنے خاندان کے ساتھ کیا لاپروائی کر رہے ہیں ۔ہم ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں لیکن وہ چیز جو ہم ہر دن میں روزانہ تین بار کرتے ہیں ۔جو ہمارے زندہ رہنے کے لئے بھی ضروری ہے ۔وہ ہے آپ کا کھانا جس سے آپ کو روزمرہ کی توانائی کے ساتھ ساتھ آپ کےمستقبل کا ان انحصار بھی ہوتا ہے۔جسکی لاپرواہی بہت سی مصیبت کا باعث بن سکتی ہے ۔خاص کر بچوں میں کیوں کہ وہ ابھی نشونما پا رہے ہیں ۔میں ان لوگوں کی بات تو کر ہی نہیں رہا جو بیچارے غریب ہیں ان کا تو اللہ ہی مالک ہے ۔میں تو ابھی ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو صاحب حیثیت ہیں ۔لیکن ان کی توجہ اس طرف نہیں ہے ۔پہلے میں بات کروں گا کہ مدح کیا ہے ۔بات دراصل یہ ہے کہ ہم جو غذا لے رہے ہیں اس کے ساتھ سائنس نے اور کاروباری حضرات نے کیا کیا ہے ۔ہم نے فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے بے دریخ کھادوں کا استعمال کیا اور کیڑے مار ادویات ڈالی اور فصلوں کو غیر معیاری طریقے سے محفوظ کیا ۔اور رہی سہی کسر کاروباری حضرات نے پوری کرتے ہوئے اس کو ہم تک پہنچا دیا اور ساتھ ساتھ بازار میں ملنے والےکیمیکل زدہ غیرمعیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاء اور کھانے بھی ۔ ہمارے ملک میں کوئی قانون اور معیار تو ہے ہی نہیں نہ ہی اخلاقی قدر ۔حکومت سے کیا گلہ کریں ۔۔،یہاں تو ہر کوئی میرا قاتل ہے ۔۔۔کس کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں ۔بہت ساری چیزیں کرنے والی ہے ۔ہر چیز کو ہم، دوسروں کے ذمے لگا دی چائے تو مناسب نہیں ہوگا ۔ہر کسی نے اپنا اپنا کام کرنا ہے ۔ہم ایک دوسروں پر مت ڈالیں ۔اور اپنے ذمے کا کام کریں ۔اس سلسلے میں، میں کچھ ویڈیو اور تحریر لوگوں کو پہنچاتا ہوں ۔میں اپنا کچھ حصہ ڈال رہا ہوں جو کہ ناکافی ہے ۔لیکن میری طرف سے کوشش ہے ۔میری آپ سے بھی یہ التجا ہے کہ ان سب چیزوں کو محض Forward messages نہ سمجھیں۔ ان پر غور کریں ۔۔ان کو دوسروں تک پہنچائیں ۔اور اپنا بھی حصہ ڈالیں ۔ان سب چیزوں کا ایک مقصد ہے ۔جب آپ ان سب چیزوں پر غور کریں گے تو آپ اپنی زندگی میں بھی اور دوسروں کی زندگی میں بہتری لا سکیں گے۔میں ایک شیف ہوں میں صرف کھانا بنانے پر ہی توجہ نہیں دیتا ۔بلکہ کھانے سے متعلق مسائل جیسے کہغذائی کمیملاوٹغیرمعیاری غذاغذا کا بہترین استعمالبہترین خدمتکھانوں کا نعمل بدل دوائی کے طور پر ہونا چاہیے (غذا سے علاج )

تحریر پڑھنے کا شکریہ ۔۔۔۔۔ دعاؤں کا طلب گارشیف اسد

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی