جنسی قوت کی زیادتی کا نام شباب

جماع اور حفظ ِ صحتیہ حقیقت مسلمہ ہےکہ شباب و جنسی قوت کا گہرا تعلق ہے بلکہ جنسی قوت کی زیادتی کا نام ہی دراصل شباب ہے جیساکہ ہم ابتدا میں لکھ چکے ہیں اگر جنسی قوت کا استعمال افراط و تفریط سے کیا جائے گا تو یقیناً اس کا اثر صحت اور شباب پر پڑے گا۔ ہم جنسی قوت کے ساتھ افراط و تفریط یعنی (کثرت جماع اور قلت جماع) دونوں صورتوں کا ذکرکیاہے اس کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح کثرت جماع جنسی قوت اور شباب کو تباہ کر دیتا ہے اسی طرح قلت جماع بھی جنسی قوت اور شباب کے نقصان کا باعث ہے۔ دونوں میں اعتدال لازمی ہے۔

قلت جماع بھی نقصان جنسی قوت اورشباب ہےاس حقیقت سےتو دنیا شباب آگاہ ہےکہ کثرت جماع یقیناً جنسی قوت اورشباب میں غیر معمولی نقصان پہنچتا ہے لیکن بہت ہی کم لوگوں کو علم ہوگا کہ قلت جماع یا بالکل جماع نہ کرنا بھی جنسی قوت اور شباب کو برباد کردیتاہے تجربہ شاہد ہے کہ جب انسانی قوی مکمل ہوجائیں اور اس میں جنسی قوت کاجذبہ جوش پرہو، جنسی مادہ جو قابل اخراج ہو اس کو خارج نہ کیا جائے تو وہی مادہ اپنے اعضاء ہی کو برباد کرنے لگتاہے یا وہ احتلام و سرعت انزال اور جریان کی صورت میں ، عورتوں میں سیلان الرحم کی شکل میں خود بخود اخراج پانا شروع کردیتاہے۔ جو لازماً امراض میں شریک ہیں جن سے صحت اورشباب برباد ہوجاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شباب اورجنسی قوت سے بھرپور نوجوان کا اجماع سے دور رہنا، کثرت جماع سے بھی زیادہ نقصان رساں ہے کیونکہ کثرت جماع سے تو صرف مادہ منویہ کا نقصان ہوتا ہے لیکن قلت جماع سے جنسی اعضاء جن سے جنسی جذبہ پیداہوتاہے اورشباب قائم رہتا ہے تباہ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان کی خرابی کے علاوہ بوقت جماع جو لذت اور خوشی پیداہوتی ہے اس سے ایک خاص قسم کی بجلی و قوت اور حرارت پیداہوتی ہے جو محافظ شباب اور طویل عمری کا باعث ہے۔

اسلام اور کثرت ازواجاس قیام شباب اور طویل عمری کے لئے ہی اسلام میں کثرت ازواج کا مسئلہ رائج ہے اور اس کاحکم ہے کہ اگر ضرورت ہوتو ایک شخص بیک وقت چار بیویاں رکھ سکتا ہے۔ حضورانور حضرت نبی کریمﷺ کے فرمان کے بموجب جوشخص نکاح نہیں کرتا وہ آپﷺ کی امت میں سے نہیں ہے۔ جو لوگ اسلام کی اس نعمت کو اچھا خیال نہیں کرتے وہ جماع اور شباب کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔

یورپ کے حکماء کثرت ازواج کے مسئلہ کو تسلیم کرچکے ہیںسوال پیداہوتا ہے کہ جماع کی ضرورت ہوتو ایک عورت سے بھی پوری کی جاسکتی ہے پھر کثرت ازواج کو کیوں اہمیت دی جائے؟ یہ اعتراض انہی عوام کی طرف سے ہے جو اعضائے انسانی کے افعال و جنسی قوت کا پیداہونا اور شباب کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ جاننا چاہیے کہ جماع میں جہاں حرکت جماع لذت و مسرت اور انبساط کے ساتھ بجلی و جنسی قوت اور شباب میں زیادتی کرتاہے وہاں پر عورت کا حسن و شباب اور اس کی حرارت غریزی بھی ان کیفیات و جذبات اور ارواح میں زیادتی کاباعث ہوتاہے یہ حقیقت ہے ہر عورت کا حسن و شباب اور حرارت غریزی زیادہ سے زیادہ تیس(30) سال تک قائم رہتی ہے اوراگر کوئی عورت بہت ہی کوشش کرے تو چالیس تک، مگر ایسی عورت ہزار میں شاید ایک ہوتی ہے جس کو اپنے حسن و شباب اور حرارت غریزی کے قیام کے متعلق پوری طرح کا علم ہو۔ اس لئے تیس سال کے بعد ہی ان کاحسن و شباب اور حرارت غریزی رخصت ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس لئے مرد کو ان امورکی طلب کے لئے ہمیشہ ایک حسن و شباب سے بھرپورحور صفت بیوی کی ضرورت ہے تاکہ اس کامادہ منویہ زیادہ سے زیادہ بنے اور پوری طرح پر اخراج پائےجس سے اس کی جنسی قوت و شباب قائم رہتا ہے اوراس کی عمر میں طوالت پیداہوتی ہے۔

قیام شباب اور طوالت کے متعلق یورپ میں بھی سائنسدانوں اور حکماء نے تجربات کئے ہیں۔ انہوں نے تجربہ کے طور پر دو ایسے شخصوں کو منتخب کیا ہے کہ ان میں سے ایک کی محض ایک بیوی تھی اور ایک شوقین مزاج ہر سال کےبعد ایک نوخیز عورت سے شادی کر لیا کرتا تھا۔ اول الذکر پر آخر الذکر کی نسبت بہت جلد بڑھاپا چھاگیا۔اس تجربہ پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کی دو وجوہات تو وہ ہیں جو ہم بیان کرچکے ہیں۔(1)۔ حرکت جماع سے جنسی قوت بھڑکتی ہے۔(2)۔ حرکت جماع سے جنسی اعضاء کی ورزش سے ان کے افعال جاری رہتے ہیں جن سے ان میں قوت پیدا ہوتی رہتی ہے۔(3)۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین کرلیں کہ نوجوان عورت میں بہ نسبت عمر رسیدہ مرد کے حرارت غریزی زیادہ ہوتی ہے اور یہی حرارت مقناطیسی ذریعہ سے جب کہ دو جسم آپس میں متصل ہوں ایک سے دوسرے میں بطور کشش منتقل ہوتی رہتی ہے اس طرح وہ شخص ہر سال اپنے جسم میں ایک نئی حرارت اور قوت حاصل کرتا رہتا ہے۔ آیورویدک کی کتب میں بھی خوبصورت اور نوخیز عورتوں کو قیام شباب و اعادہ شباب اور طویل عمری کے لئے لازم قرار دیاگیاہے بلکہ ان کےاصولوں کے مطابق جب تک انتہائی دل لبھانے والی حسین اور رس بھری عورت کو سامنے نہ رکھا جائے اس وقت تک کایا کلپ ناممکن ہے۔ کیونکہ حسن و شباب کی کشش بھی جنسی قوت کو بیدار کرتی ہے۔

کایاکلپ بغیر حسن شباب ممکن نہیں ہےآیورویدک کتب میں لکھاہے کہ جیستدریہ شخص کو چاہیےکہ ہمیشہ واجی کرن(قوت باہ بڑھانے والی) ادویات کا استعمال کرتا رہےکیونکہ دھرم (مذہب) ارتھ(مقصد) پریتی(محبت) اوریش(نیک نامی) یہ چاروں انہی واجی کرن ادویات کی بدولت حاصل ہوتے ہیں۔سبب یہ ہے کہ بیٹا واجی کرن کی بدولت اور مندرجہ بالا چاروں نعمتیں بیٹے کی بدولت میسر آتی ہیں۔ اس لئے روئیں روئیں میں خوشی پیداکرنے والی عورت واجی کرن کا سب سے اچھا کھیت ہے۔ روپ (حسن) اس شباب وغیرہ ۔ اندریونکے پانچوں وشے پریتی پیداکرے میں سب سے افضل تسلیم کئے گیے ہیں اور جب یہ پانچوں ایک عورت میں پائے جاتے ہیں تو اسے پریتی کی کان گستابیجانہ ہوگا۔ عورت کے مویہ پانچوں وشے اور کہیں بھی یک جا نہیں پائے جاتے۔ اس لئے اندریوں کے یہ وشے جو عورت میں یک جا پائے جاتے ہیں وہ پریتی کے برمانے والے ہیں پریتی سنتان(اولاد) دھرم۔ ارتھ۔ لکشمی (دولت) ۔لوگ (سومووات) بھی خصوصیت سے عورتوں ہی میں رونق افروز ہے۔.حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی رح

کایا کلپ کے متعلق ایک تحریراز محترم دوست محمد صابر ملتانی صاحب =

☜اعادہ شباب و حقیقت اور فرنگی طب کی غلط فہمی

☜الرحمن الرحیم مالک یوم الدین الصلوۃ والسلام علی رحمۃ العالمین۔ اما بعدجب سے دنیا عالمِ وجود میں آئی ہے اس وقت سے نشووارتقاء اور تحقیق و تجدید کاسلسلہ قائم ہے۔نشووارتواء تو قدرت کی طرف سے مکمل ہورہا ہےاور تحقیق و تجدید اشرف المخلوقات کے ذمہ کیاگیاہے کہ وہ قدرت کے اسرارورموز کو اس دنیا پر آشکار کردے اور یہ دونوں عمل قانونِ فطرت کےمطابق عمل میں آرہے ہیں۔ یعنی ان عوامل کےلئے قدرت کا مقرر کردہ قانون یا راستہ ہےجن کےلئے دن کا لفظ حقیقت کے عین مطابق ہے۔قدرت کے نشووارتقاء اور تحقیق و تجدید کے ادوار اور مراحل اور اشیاء وافعال کا شمارکیاجائے تو پیدائشِ کائنات سے لے کر زندگی تک اور زندگی سے انسان تک ہے اورپھرانسانی تحقیق و تجدید سے لے کر آج کل لاکھوں منزلیں طے ہوئی ہیں۔ لیکن نشووارتقاء اور تحقیق وتجدید کاہر عمل اور ہرقدم اپنے اندرکوئی نہ کوئی قانون اور اصول رکھتا ہے پھریہی قوانین اوراصول اپنے اندرکئی کئی نظریات رکھتے ہیں۔ جن سے انہی قوانین اور اصولوںمیں ارتقاء اور تکمیل پائی جاتی ہے۔ اور جن اہلِ علم اور صاحبِ فن کی نگاہِ تحقیق وتجدید کی طرف ہوتی ہے وہ انہی قوانین و اصولوں کو سمجھ کر خاموش بیٹھ جاتے ہیں بلکہ ان پرمزید ٖغوروفکر کرتے ہیں تاکہ اس منزل کی طرف قدم بڑھا ئیں جو منزل ان کے دل و دماغ کی وسعتوں میں پیداہوچکی ہوتی ہیں۔

اہلِ علم و صاحبِ فن اور حکماء اوراطباء ذہنی وسعتوں اور منزلوں میں ایک فکرقیامِ شباب واعادہِ شباب اور طویل عمری کا بھی ہے کیونکہ انسان ہوش سنبھالنےکے بعد جب اس دنیا کی زندگی میں عیش ونشاط اور لطف و لذت سے مسرور ہوا ہے اس کوزندگی اور شباب بہت قیمتی ہے اب وہ چاہتا ہے کہ نہ صرف ہمیشہ کےلئے زندہ رہے بلکہ حسن و شباب کی رنگینوں سے سرخرو اور بھرپور بنا رہے۔ اس مقصد کےلئے اس نے اچھی صحت کے قوانین بنائے ، امراض کے علامات تلاش کئے۔ قیامِ شباب کےلئے اصول واضح کئے اور طویل عمری کےلئے قوانین کی تلاش کی ہے لیکن انسان کو اپنے مقصد میں پوری کامیابی نہیں ہوئی ہے مگر انسان اپنی اس کوشش سے دستکش نہیں ہوا. کیونکہ اس کی کامیابیاں بھی اپنے اندر بے شمار کامیابیاں رکھتی ہیں۔ صحت کے قوانین و علاج اِصول اور زندگی کے مداوے ایسے امور ہیں جن سے نہ صرف انسانی کی زندگی بے حد کامیاب ہے بلکہ بے مطمئن ہے یہی اس کی بہت بڑٖی کامیابی ہے۔ اس لئے اس مقصد کےلئے اس کا قدم آگے کی طرف بڑھتا جارہاہے۔ اس میدان میں جو بھی لوگ تھک کر بیٹھ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا ہے۔

ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی ہم نے دنیا سرائے فانی دیکھیجوجاکے نہ آئے وہ جوانی دیکھی جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھاقیام و شباب و اعادہِ شباب اور طویل عمری کےلئے سب سے قدیم سرمایہ اور مفید معلومات ایورویدک میں پائی جاتی ہیں۔جس میں لکھا ہے کہ کایا کلپ ایک یقینی عمل ہے جس کے ذریعے انسان ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن اس عمل کے لئے خاص خاص ادویات کے ساتھ ساتھ فاضل اور قابلِ دید اور ایک مناسب ماحول کی ضرورت ہے، اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ ادویات میں ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں اور ان کا استعمال بھی بغیر فاضل اور قابلِ دید اور مناسب ماحول کے سوا ممکن نہیں ہے ۔ لیکن ایورویک میں بڑھاپے اور ضعف پر تسلی بخش روشنی ڈالی گئی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوشوں کی خرابی اور فساد صحت اور قوت کے نقصان کا باعث ہیں۔ جن کے بعد بڑھاپاآتا ہے، مگر جسم میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ جن کو دورکرنے کی کوشش کی جاسکے، جہاں تک ادویات کا تعلق ہے ، ان کا تعلق کسی عضو یا کسی قسم کی خرابی سے ہے اور ادویات سے کسی قسم کی کمی و خرابی دور ہوسکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایورویک میں کایاکلپ ایک مشکل ترین معمہ بن کر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کے ویدوں میں کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا جوکسی اور کا نہ سہی اپنا ہی کایاکلپ کرے اور نہ ہی ایسا ویدپایاجاتا ہے جس نے ہزاروں سال پہلے اپنا کایاکلپ کیاہو اور ہم میں ایورویک کے اس کایا کلپ کو ثبوت پیش کرسکے۔ جہاں تک طبِ یونانی کا تعلق ہے وہ اصولی طورپر اعادہِ شباب کی قائل نہیں ہے۔ البتہ اس کے قوانین اور اصولوں کے تحت قیامِ شباب اور طبعی عمرتو ممکن ہے دائمی زندگی اور شباب ممکن نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کا نظریہ ہے کہ انسان کی پیدائش عورت اور مرد کے مشترکہ نطفے سے ہوتی ہے جس کی رطوبت اورحرارت سے اس کی زندگی قائم رہتی ہے ان کو رطوبتِ غریزی اور حرارتِ غریزی کہتے ہیں۔زندگی بھریہ دونوں چیزیں قائم رہتی ہیں اور جب یہ دونوں چیزیں ختم ہونے لگتی ہیں تو بڑھاپاآنا شروع ہوجاتا ہے اور ان کے ختم ہونے پر موت واقع ہوجاتی ہے۔ ان کی مثال ایک چراغ سے دی جاتی ہے جس کا تیل رطوبتِ غریزی اور بتی حرارتِ غریزی ہے ۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ تیل و بتی دونوں ختم ہوجاتے ہیں۔ انسانی جسم میں جب رطوبتِ غریزی اور حرارتِ غریزی ختم ہوجاتی ہیں، چونکہ یہ دونوں پھر پیدانہیں ہوسکتیں اس لئے نہ ہی شباب لوٹایاجاسکتا ہے اور نہ ہی عمر میں طوالت کی جاسکتی ہے۔اس لئے طبِ یونانی اعادہِ شباب اور دائمی زندگی کی قائل نہیں ہے۔

فرنگی طب اور ماڈرن سائنس قیامِ شباب و اعادہِ شباب اور طویل عمری کی قائل ہے، وہ انسانی زندگی کی پیدائش کو نطفہ سے تو ضرور تسلیم کرتی ہے مگر رطوبتِ غریزی اور حرارتِ غریزی کے متعلق بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ ان کی پیدائش زندگی بھر جاری رہتی ہے ان کا بننا کبھی بند نہیں ہوتا۔ یہ دونوں چیزیں اعضائے جسم ہمیشہ تیارکرتےرہتے ہیں جن میں غددکوبے حد اہمیت ہے اس لئے اگر غدد صحیح طورپر اپنے افعال جاری رکھیں تو قیامِ شباب اور طویل عمری ممکن ہے لیکن ان کے نظریےکے تحت ایک صورت ایسی ہے کہ جس سےغدد کے افعال بگڑجاتے ہیں، وہ ہے نظریہ جراثیم۔ یعنی اپنے گردونواح میں ایک غیر مرئی مخلوق ایسی ہے جوجسمِ انسان میں اندروباہر سے ہمیشہ حملہ کرتی رہتی ہے جس سے خطرناک اور خوفناک امراض پیداہوتے رہتے ہیں۔ جن سے انسانی صحت کا توازن بگڑجاتا ہےاور غدد اپنی صحیح حالت میں نہیں رہ سکتے اور رطوبتِ غریزی اور حرارتِ غریزی کی پیدائش نہ صرف کم ہوجاتی ہے بلکہ خراب ہوجاتی ہےاس وجہ سے صحت اور طاقت دونوں قائم نہیں رہ سکتیں پھر بڑھاپا اور موت واقع ہوجاتی ہے۔ غدد کی حالت کو ازسرِ نو درست کرنے کےلئے فرنگی ڈاکٹروں نے غدد کی پیونداور قلم لگانے کے بھی کوشش کی ہے۔ جس سے ابتدا میں اچھی خاصی کامیابی ہوئی ہے۔ لیکن بہت جلد ا س کے نتائج بگڑ گئےہیں بلکہ بعض حالتوں میں نقصان بہت زیادہ ہوگیا ہے اس لئے یہ صورت بھی کامیاب نہیں ہوئی بعض فرنگی سائنسدانوں نے خون کے اجزاء کو مدنظر رکھ کر ایسے مرکبات تیار کئے ہیں جن سے اعضاء اور خصوصاًغدد اور ذراتِ خون کوطاقت دی جاسکے اس طرح بھی اچھے اثرات پیداہوئے ہیں۔ مگر حقیقی کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے۔

لیکن فرنگی طب اور ماڈرن سائنس کی یہ غلط فہمی ہے کہ صرف غدودو ذراتِ خون اور خون کے دیگر عناصر قیامِ صھت اور قوت کے لئے کافی ہیں۔ ان کا تعلق صرف جگر کے ساتھ ہے۔ ان کے علاوہ اعصاب و عضلات بھی جسم میں اپنے مخصوص افعال انجام دیتے ہیں جن کے مرکز دماغ اور دل ہیں۔ دوسرے جسمِ انسان میں رطوبت کون سے اعضاء بناتے ہیں اور کون سے اعضاء ان کو حرارت میں تبدیل کرتے ہیں۔ تیسرےجراثیم امراض پیداکرنے کے اسبابِ واصلہ ہیں یا اعضاء ِ جسم کی خرابی امراض پیداکرنے کے اسباب واصلہ ہوسکتے ہیں۔نیزاس وقت تک فرنگی طب اور ماڈرن سائنس صحیح معنوں میں اس علم سے واقف نہیں ہے کہ مفرداعضاءا اور امراض کاکیا تعلق ہے؟ اس لئے وہ جسمِ انسان میں رطوبت و حرارت اور امراض اور جراثیم کے تعلق کا علم نہیں رکھتے۔ ان کے اس علم سے ناواقفیت کی وجہ سے ہم ان کوباربار چیلنج دیتے ہیں کہ ان کانظریہ امراض اور اصولِ علاج غلط ہیں۔ ایورویدک وطبِ یونانی اور فرنگی طب و ماڈرن سائنس کی تحقیقات کو سامنے رکھنے کے بعد جن کا تفصیلی ذکر ہم نے اس کتاب میں کردیا ہے۔ ہم نے انسانی جسم کی مشین کاگہرا مطالعہ کیا ، ہر عضو کے افعال پر نہ صرف گہری نظرڈالی بلکہ ان کے نتائج کے اثرات کرپرکھا اور سب سے بڑی تحقیق یہ ہے کہ ان کے تعلقات کوخوب اچھی طرح سمجھا ہے اور جہاں پرفرنگی طب اور سائنس کی تحقیقات اور ترقیات ختم ہوگئیں یا انہوں نے اپنا راستا غلط اختیارکرلیاوہاں پر ہم نے آگے بڑھنے اور غلط راستے سے دور ہٹنے کی کوشش کی۔ خداوندِ حکیم کاہزار ہزار شکر ہے کہ اس علیم و حکیم نے ہمیں کہیں مایوس نہیں کیا۔ جہاں پربھی ہماری تحقیقات رکیں ہم نے نہایت صبر واستقامت سے کام لیا اور ہماری منزلیں قریب ہوگئیں اور ہم کو غیر معمولی کامیابی نصیب ہوئی۔

اس امر کے اعتراف میں ہمیں ذرا بھر انکار نہٰیں ہے کہ اس تحقیق میں ہمیں قرآنِ حکیم کی روشنی نے ہماری راہنمائی اور راہبری کی ہے۔ یہ ہمارا یقین ہے کہ قرآنِ حکیم تمام علوم کانہ صرف منبع اور سرچشمہ ہے بلکہ ایک ناختم ہونے والا خزانہ بھی ہے۔ صرف دیکھنے والی نگاہ چاہیے جو اس پر غوروفکر کرسکے۔ حقیقت یہ کہ قرآنِ حکیم جس انداز سے زندگی و کائنات اور نفس وآفاق پر روشنی ڈالتا ہے اس کا ذرا بھربھی دیگر کتب میں نظر نہیں آتا، خاص طورپررطوبت و حرارت اور ارواح و ہواؤں کی پیدائش ، ان کا جلنا اور ایک دوسرے میں بدلنا، اور ان کے افعال و اثرات اور خواص اس تفصیل سے درج ہیں کہ انسان دیکھ کردنگ رہ جاتا ہے۔ ان کی تفصیلات انشاء اللہ تعالیٰ طبی اور سائنسی تحقیقات ختم کرنے کے بعد بیان کردی جایں گی۔ کیونکہ قرآن حکیم میں جو طبی و سائنسی حقائق بیا ن کئے گئے ہیں ان سے دنیاکاآگاہ ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ جو کچھ ہم نے اس کتاب میں زندگی اور روح اور رطوبت و حرارت کی پیدائش کا ذکر کیا ہے وہ الحمد و للہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین کی تشریح کا صرف ایک پہلو ہے ورنہ ایہ حقائق سات سمندروں کی سیاہی اور دنیا بھر کے درختوں کی قلم سے بھی بیان نہیں ہوسکتے۔ ہم عاجز بندے ہیں ، ہم کو جو علم دیاگیاہے وہ تمام جہانوں کے مقابلے میں ایک رتی کے برابر بھی نہیں ہے۔ البتہ جولوگ ہدایت چاہتے ہیں ان کو حضور انورو اطہر ﷺ کی تعلیم او ر زندگی کے طفیل ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔

اس امر پر حکیم و وید و اطباء اور فرنگی معالج متفق ہیں کہ جب تک جنسی قوت میں شدت رہتی ہے حسن و شباب قائم رہتا ہے اور جب جب اس قوت میں کمی آنا شروع ہوتی ہے تو حسن و شباب بھی ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے ، جنسی قوت میں کمزوری یا خرابی میں تین اہم حقائق بیان کئے جاتے ہیں ۔ اول: حفظانِ صحت میں بے قاعدگی جس میں غذا کو بے حد اہمیت ہے، دوسرے اعضاء ِ جسم کے افعال میں کمی بیشی اور خرابی خاص طورپرجگر کی خرابی تیسرے نفسیاتی طورپر جنسی جذبہ میں خرابی پیداہوجائے خاص طورپر خوف اور غم کی فراوانی۔ اگر کم از کم جنسی قوت کو ایک معیار و شباب مقرر کرتے ہوئے ان تینوں حقائق کی ایک اچھے طریق پر نگہداشت رکھی جائے تو یقیناً امر ہے، شباب اور صحت بہتر طریق پرقائم رہتے ہیں۔

ہم نے اس جنسی قوت کو تین حصوں میں تقسیم کردیاہے۔ 1۔ رطوبت(Energy)۔ 2۔حرارت(Heat) ۔ 3۔جوش(Force)۔ اور پھر ان تین قوتوں کو اعضائے رئیسہ کے تحت ترتیب دے دیا ہے یعنی رطوبت کی زیادتی دماغ واعصاب کی تیزی سے ہوتی ہے۔ حرارت کی زیادتی جگر و غدد میں تیزی سے اورجوش کی زیادتی دل و عضلات میں تیزی سے ہوتی ہے۔ جب کسی شخص میں جنسی قوت میں کمزوری واقع ہوتی ہےتو یہ کبھی نہیں ہوتا کہ تینوں قوتوں میں بیک وقت کمزوری اور خرابی ہوگی یا حرارت و جوش میں افراط و تفریط اور نقص پیداہوجائے گا۔ اس لئے جس قوت میں کمی اور خرابی واقع ہوگی صرف اسی کو درست کرناچاہیے۔ اسی طرح جنسی قوت بالکل درست ہوجائے گی۔ اس لئے ہمیں بیک وقت تینوں اعضائے رئیسہ کو طاقت دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف اسی ایک عضوکوطاقت دینا ہی کافی ہے جس کے ساتھ اس قوت کا تعلق ہے۔ اسی طرح ہم نے حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی اور روح کے متعلق حکماء سے اختلاف کیا ہے اوراس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ یہ تینوں حسبِ ضرورت پیداکی جاسکتی ہیں اور ان تینوں کا تعلق بھی اعضائے رئیسہ سے مقررکردیاتاکہ ان تینوں میں سے جس کوپیداکرنا مقصود ہوتو اس کےمتعلقہ عضو میں تحریک دینے سے پیداکی جاسکتی ہے۔ جس کسی اہلِ علم اور صاحبِ فن کوہماری اس تحقیق سے اختلاف ہو ہم اس کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خیالات اور حقائق کوبیان کریں ہم خوشی سےان کو اپنے رسالہ میں شائع کریں گے اور ان کا تسلی بخش جواب بھی دیں گے۔ ہم نے اس کتاب کو اپنی تحقیقات سے پورے طورپر مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر افسوس وقت کی قلت اور دامن کی تنگی نہ ہوتی تو یقیناً یہ کتاب اس سے چار گنا زیادہ ہوتی۔ زندگی بخیر انشاء اللہ تعالیٰ اس کے دوسرے ایڈیشن میں ہم اس کو اور زیادہ تفصیل سے لکھیں گے۔ جس سے بہت سے اسرار و رموزکی گرہ کشائی ہوگی۔

جو لوگ فن و تحقیق اور تجد ید کی اہمیت سے واقف ہیں وہ اس کتاب کی اہمیت کو پورے طورپر سمجھ سکتے ہیں۔کیونکہ ہر تحقیق کے لئے لازم ہے کہ اس کے ثبوت میں مشاہدات و تجربات اور دلائل اور حقائق پیش کئے جائیں۔ اور یہی امور تحقیق کی جان ہوتے ہیں۔ چونکہ ان امور میں زیادہ تر اصطلاحات برتی جاتی ہیں ۔ اس لئے عوام جواہلِ علم اور صاحبِ فن نہیں ہیں وہ تحقیق و تجدید کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ البتہ ان کے لئے سب سے بڑی اہمیت انہی معلومات میں پائی جاتی ہے جو دنیا میں پہلی بار پیش کی جارہی ہے۔ اس لئے ہمیں امید ہے کہ ہماری اس کتاب سے اہلِ علم اور صاحبِ فن اور محقق وحکماء کے ساتھ عوام بھی مستفیدہوں گے۔ البتہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ عوام زیادہ سے زیادہ اس سے استفادہ حاصل کرلیں۔ اس لئے وہ اگر دو تین بار اس کتاب کو غوروفکر سے پڑھیں تو یقیناً وہ بھی اس سے پورے طورپر مستفید ہوسکتے ہیں۔ایک بات کی طرف ہم خاص طورپر دلانا چاہتے ہیں کہ اپنی ہر تحقیق میں قدیم وجدید اور یورپ و امریکہ کی تمام سائنسی و طبی تحقیقات کو اپنے سامنے رکھتے ہیں اور اپنی تحقیقات میں اس امر کومدنظر رکھتے ہیں اور قدیم و جدید خصوصاً فرنگی سائنسی طبی تحقیقات کو پہلے من و عن بیان کردیتے ہیں پھر آخر میں اپنی تحقیقات کو سائنسی تجربات ومشاہدات اور علمی وفنی دلائل و حقائق کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ کسی علمی وفنی ہستی اور محقق کوانگلی رکھنے کا موقعہ نہ مل سکے۔ پھر بھی اگر کسی کوزیادہ وضاحت کی ضرورت ہوتووہ ہمیں مل کراپنی تسلی و تشفی کرسکتے ہیں۔

خداوندِحکیم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ انہوں نے ہم سے ایک اہم خدمت لی ہے اور ہم اس قابل ہوسکے ہیں کہ تھوڑے عرصے میں ایک بہت بڑا حصہ علمی و فنی خدمت کا پیش کرسکے ہیں۔ خاص طورپر اس سا ل میں ہم یکے بعد دیگرےتین خاص نمبر پیش کرچکے ہیں جوبہت بڑا علمی و فنی خزانہ ہے۔ ہمارا سال اکتوبر سے ہوتا ہے۔ ان ابتدائی چارماہ میں ہی تین خاص پیش کرنے کے قابل ہوگئے اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک زبردست چیلنج ہوگا۔ جس کا مقابلہ موجودہ طبی اور سائنسی دور میں ناممکن ہے خریداروں کےلئے ہم نے خاص قیمت مقررکی ہے اور آئندہ اس امر کو ہمیشہ مدِنظررکھیں گے۔ ہم یہ سب کچھ اس لئے پیش کرنے کے قابل ہوسکے ہیں کہ خداوندِ حکیم کی مہربانی سے ہمارے رسائل و کتب اور تحقیقات کو بے حد مقبولیت حاصل ہورہی ہے اور رسالہ رجسٹریشن فرنٹ اپنے پاؤں پرکھڑا ہوگیاہے۔ جوں جوں اس کی اشاعت بڑھتی جائے گی ہم انشاء اللہ تعالیٰ زیادہ سے زیادہ علمی فنی خزانہ یورپ وامریکہ کے مقابل لٹریچر پیش کرتے رہیں گے۔ جو واقعی طبی و سائنسی دنیا میں انقلاب ہوگا۔

از: حکیم و سائنسدان دوست محمد صابر ملتانؔی۔ مورخہ 4 جنوری 1961ء

گزارش:گروپ میں پیش کردہ تحاریر اور نسخہ جات خالصتاً فلاح و بہبود عوام اللناس ھوتے ھیں مبتدی حضرات کسی کوالیفائیڈ حاذق طبیب کے مشورہ اور زیرِ نگرانی ھی ان پر عمل پیرا ھوں ۔ شکریہداعی الخیرعلی رضا جالندھری

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی