ہائپوگلائسیمیا گلوکوز کا کم ہونا

Hypoglacemia_خون میں شکر کا کم (sugur low) ہوجانا_

تعارف۔ہائپوگلائسیمیا خون میں گلوکوز کم ہونے سے پیدا ہونے والی کیفیت ہے۔ گلوکوز جسم کیلیئے توانائی کا بنیادی زریعہ ہے۔ بعض اوقات ذیابیطس کے علاج میں ہائپوگلائیسیمیا کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تاہم کچھ کم وقوع پزیر اسباب ذیابیطس کے بغیر بھی ہائپوگلائیسیمیا کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہائپو گلائیسیمیا بذات خود کوئی مرض نہیں بلکہ کچھ دیگر امراض سے پیدا ہونے والی ایک خطرناک بحرانی کیفیت کا نام ہے۔جب خون میں گلوکوز کی مقدار 70 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہوجائے تو فوری علاج کی ضرورت ہے فوری علاج کیلیئے ایسے اقدامات کرنے ہیں جن سے خون میں شوگر کی مقدار فورا بڑھ جائے مثلا میٹھے مشروب۔ میٹھے کھانے اور ادویات وغیرہ۔ہائیپو گلائیسیمیا کا باعث بننے والے اسباب کے علاج میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

_علامات_حرکات قلب کا ردھم بےترتیب ہونا۔تھکاوٹ۔جلد پیلی ہونا۔اینزائٹی۔پسینہ آنا۔بھوک زیادہ لگنا۔لرزہ و کپکپی طاری ہوناسردی لگنا۔ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہونا۔منہ کے ارد گرد سوئیاں چبھنے کا احساس۔نیند سے چلا کر اٹھ جانا۔حساس رویہ۔ وغیرہ۔

اگر ہائیپوگلائیسیمیا شدت اختیار کرجائے تو یہی علامات بڑھ کر کنفیوژن۔ ابنارمل رویہ۔ روز مرہ امور کے انجام دینے میں دقت۔ بینائی میں کمی۔ دماغی دورے۔ بیہوشی۔ بولنے میں دقت۔ یاداشت کی کمی کا باعث بن جاتے ہیں۔

_اسباب_ہائیپوگلائیسیمیا کی کیفیت خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ یونیفیکئشن تھیوری کے مطابق خون میں شکر کی کمی سے کیٹابولزم (استحالہ) کا عمل سست ہوکر سردی یعنی خدر کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہونے لگتے ہیں۔ گلوکوز چونکہ دماغ و اعصاب کی غذا ہے لہذا عدم غذائیت کے سبب دماغی افعال کا فتور ہوکر اعصابی کمزوری۔ حتی کہ بیہوشی طاری ہوسکتی ہے۔

_خون میں گلوکوز کا توازن_یہ جاننے کیلیئے کہ ہائیپوگلائیسیمیا کیسے واقع ہوتا ہے۔ ہمیں خون میں گلوکوز کا توازن برقرار رکھنے والے فطری عمل کو سمجھنا ہوگا۔ جب ہم غذا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس کو توڑ کر شوگر کے مختلف مالیکیولز بشمول گلوکوز میں تقسیم کردیتا ہے۔ واضع ہوا کہ غذاء سے ہی گلوکوز بنتا ہے۔ گلوکوز جسمانی انرجی کا سب سے بڑا اور بنیادی زریعہ ہے۔ مگر یہ خلیات میں انسولین کی مدد کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ انسولین لبلبہ سے ترشح پانے والا ایک ہارمون ہے۔ جب خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھتی ہے تو لبلبہ کے بیٹا خلیات خون میں انسولین کا افراز کرتے ہیں یہی انسولین گلوکوز کو خلیات میں داخل کرتی ہے اور خلیات کو ایندھن فراھم کرکے ان کے افعال میں تواتر پیدا کرتی ہے۔ جبکہ اضافی گلوکوز جگر اور عضلات میں گلائیکوجن کی صورت زخیرہ ہوتا رہتا ہے۔ مثلا اگر ہم کئی گھنٹے بھوکے رہیں اور خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہوجائے تو لبلبہ کا ایک دوسرا ہارمون گلوکاگون ترشح پاکر جگر کو زخیرہ شدہ گلائیکوجن خون میں شامل کرنے کا حکم دیتا رہتا ہے۔ جس سے خون میں گلوکوز کی شرح حسب ضرورت برقرار رہتی ہے۔جگر کا گلائیکوجن کو توڑ کر گلوکوز میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم میں گلوکوز بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ یہ عمل ابتدائی طور پہ جگر اور گردوں میں وقوع پزیر ہوتا ہے۔

_شوگر کے مریض میں ہائیپوگلائیسیمیا کی وجوہات_شوگر کے مریضوں کو انسولین کی زائد مقدار نہیں لینی چاہیئے۔ اس سے خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہوکر ہائیپوگلائیسیمیا کا خطرہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں شوگر کی ادویہ کھانے کے بعد مناسب غذا نہ لینے یا زیادہ جسمانی مشقت سے بھی ہائیپوگلائیسیمیا ہوسکتا ہے۔

غیرذیابیطس افراد میں ہائیپوگلائیسیمیا کے اسباب

1۔ میڈیکیشن۔ حادثاتی طور پہ بلڈ گوکوز کم کرنے والی ادویہ کھالینا۔ملیریا کی دوا کونین کا استعمال۔کڈنی فیلیئر کی ادویہ کا استعمال۔پین کلرز اور انیستھیزیا کا استعمال۔2۔ خالی پیٹ الکوحل کا استعمال کرلینا جگر سے ژخیرہ شدہ گلوکوز کو دوران خون میں بھیجنے کا عمل روک کر ہائیپوگلائیسیمیا پیدا کرسکتا ہے۔3۔ بعض شدید امراض۔ جگر کے شدید امراض مثلا ہیپاٹائٹس (جو آخری درجہ خدر میں ہو۔ گردوں کی چوتھے درجہ کی خرابی جو فضلات بدن اور ادویات کو مکمل خارج نہ کرسکے۔امراض قلب۔

4۔ لمبے عرصہ کی فاقہ کشی۔Eating disorderenoraxia starvation

5 _انسولین کی زائد پیدائش_لبلبے میں ٹیومر بننا اور insulinoma انسولین کی زائد پیدائش ہائیپوگلائیسیمیا کا موجب بن سکتا ہے۔خدر کے درجہ میں بدن کے دیگر ٹیومرز بھی insuline-like مادے پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔

6 _بیٹا خلیات کی غیر فطری بڑھوتری اور انسولین کی زائد پیدائش_نیزائڈیو بلاسٹوسس nesidioblastosis ہائیپوگلائیسیمیا کا سبب بنتی ہے۔7 _ہارمونز کی کمی_ایڈرینل گلینڈ اور پیچوٹری گلینڈ کی خرابی کے نتیجےمیں گلوکوز کی پیدائش کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کی کمی یا بچوں میں گروتھ ہارمونز کی کمی ہائیپوگلائیسیمیا کا سبب بنتی ہے۔8 _غذاء کھانے کے بعد یائیپوگلائیسیمیا ہونا_ہائیپوگلائیسیمیا عموما بھوک کے سبب پیدا ہونے والی صورت حال ہے لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا بعض اوقات کھانا کھانے کے بعد انسولین کی زائد پیدائش سے بھی ہائیپوگلائیسیمیا ہوجاتا ہے۔ اس قسم کو reactive یا post brandial ہائیپوگلائیسیمیا کہتے ہیں۔ یہ عموما ان لوگوں میں پیدا ہوتی ہے جن کے معدہ کی سرجری ہوچکی ہو۔ لیکن ان لوگوں میں بھی ہوسکتی ہے جن کے معدہ کی جراحت نہ ہوئی ہو۔

_ہائیپوگائیسیمیا سے پیدا ہونے والی شدید پیچیدگیاں_ہائیپوگلائیسیمیا کی علامات کو عرصہ دراز تک نظر انداز کرتے رہنا بیہوش طاری ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کا سبب دماغ کو مناسب افعال کیلیئے درکار گلوکوز کا کم ملنا ہے۔ہائیپوگلائیسیمیا کی علامات فوری توجہ کی متقاضی ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہی کیفیات بڑھ کر دماغی دوروں۔ بیہوشی۔ کوما اور موت کا سبب بنتی ہیں۔ نیز ہائیپوگلائیسیمیا کے سبب چلتے ہوئے گرجانا۔ چوٹ لگنا اور ڈرائونگ کے دوران حادثات بھی ہوسکتے ہیں۔

_احتیاطی تدابیر_اگر آپ شوگر کے پرانے مریض ہیں تو خون میں شوگر کی کمی آپ کے لیئے بے آرامی اور خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ بار بار ہائیپوگلائیسیمیا کے خطرے کو روکنے کیلیئے انسولین کی کم مقدار لیں۔ تاکہ خون میں گلوکوز کی مقدار خطرناک حد تک کم نہ ہو۔ ہائیپوگلائیسیمیا ممکنہ طور پہ اعصاب۔ خون کی نالیوں۔ اور مختلف اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں شوگر کے مریض ہائیپوگلائیسیمیا اٹیک سے بچاو کیلیئے اپنے جسم سے منسلک Continuous Glucose Monitor کا استعمال کر رہے ہیں جو انہیں خون میں گلوکوز کی کمی بیشی کی بروقت اطلاع کردیتا ہے۔جن افراد کو شوگر نہیں ہے اور خدر کے باعث بار بار ہائیپوگلائیسیمیا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ دن میں بار بار تھوڑا تھوڑا کھانا کھاکر خون میں شوگر کی مناسب مقدار برقرار رکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ کار اس مرض کے حملے سے آپ کو عرصہ دراز تک محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ بہتر ہے ہائیپوگلائیسیمیا کی علامات کا احساس ہوتے ہی کسی قابل معالج سے رجوع کریں۔

_یونیفیکیشن تھیوری کے مطابق ہائیپوگلائیسیمیا کا علاج_اوپر بیان کیلیئے گئے ہائیپوگلائیسیمیا کے تقریبا تمام اسباب جسم و خون میں سردی و برودت کی دلیل ہیں۔ علاج کیلیئے اپنا خون پتلا رکھیں۔ گرم تر سے تر گرم درج زیل اغذیہ استعمال کریں۔۔۔۔۔ناشتہ۔۔۔ مربہ آم۔ ادرک کا حلوہ۔ تلبینہ۔ گندم اور مونگ کی چھلکے والی دال۔ دیسی گھی میں ادرک اور بادام چھلے ہوئے باریک کرکے ہلدی۔زیرہ۔ سیاہ مرچ اور نمک ڈال کر مصالحہ بھون لیں توش پہ لگا کر کھائیں۔ اوپر سے زیادہ دودھ والی چاہے پی لیں۔ سونف پودینہ یا ادرک پودینہ کا جوشاندہ بھی پی سکتے ہیں۔ سوجی یا کدو کا حلوہ۔ حریرہ۔ خمیرہ بادام۔ مربہ گاجر۔ دودھ میں سونف اور چھوٹی الائچی ابال کر پیئیں۔دوپہر کا کھانا۔کدو۔ ٹینڈے۔ شلغم۔ گھیا توری۔ مونگ کی دال۔ دیسی شکر کی چوری۔ مولی گاجر۔ مونگرے۔ مغز بکرا۔ حلوہ کدو۔ اچار گاجر۔ دھنیا سبز اور زیرہ سفید کی چٹنی۔رات کو بھی یہی غذا استعمال کرسکتے ہیں۔_پھل اور مشروبات_کھجور۔ انگور۔ خربوزہ۔ خوبانی۔ پپیتہ۔ انجیر۔ کیلا۔ امرود۔ گرما۔ گنڈیریاں۔ بادام۔ گلقند۔ کھیرا وغیرہ۔مشروبات میں گائے بکری یا اونٹنی کا دودھ۔ سونف الائچی والی چاہے۔ شہد کا شربت۔ آم کا ملک شیک۔ سونف پودینہ کا قہوہ۔ شربت بزوری۔ شربت بنفشہ۔ کیلیے کا ملک شیک۔ گاجر کا جوس۔ گنے کا رس۔ دودھ چینی یا شہد ملا سونف چھوٹی الائچی کا جوشاندہ۔

ادویات۔۔۔۔۔نظریہ اربعہ فارماکوپیا کی گرم تر سے تر گرم ادویہ مثلا ہاضم 45 ہاضم-4 ملین-4 اور ملین-45 جدید-4 تریاق-45 تریاق-5 ملین-5 مفید ترین دوائیں ہیں۔ معالج کے مشورہ سے استعمال کریں۔

تحریر۔ ڈاکٹر سید رضوان شاہ گیلانی۔Hypoglacemia_خون میں شکر کا کم (sugur low) ہوجانا_

تعارف۔ہائپوگلائسیمیا خون میں گلوکوز کم ہونے سے پیدا ہونے والی کیفیت ہے۔ گلوکوز جسم کیلیئے توانائی کا بنیادی زریعہ ہے۔ بعض اوقات ذیابیطس کے علاج میں ہائپوگلائیسیمیا کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تاہم کچھ کم وقوع پزیر اسباب ذیابیطس کے بغیر بھی ہائپوگلائیسیمیا کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہائپو گلائیسیمیا بذات خود کوئی مرض نہیں بلکہ کچھ دیگر امراض سے پیدا ہونے والی ایک خطرناک بحرانی کیفیت کا نام ہے۔جب خون میں گلوکوز کی مقدار 70 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہوجائے تو فوری علاج کی ضرورت ہے فوری علاج کیلیئے ایسے اقدامات کرنے ہیں جن سے خون میں شوگر کی مقدار فورا بڑھ جائے مثلا میٹھے مشروب۔ میٹھے کھانے اور ادویات وغیرہ۔ہائیپو گلائیسیمیا کا باعث بننے والے اسباب کے علاج میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

_علامات_حرکات قلب کا ردھم بےترتیب ہونا۔تھکاوٹ۔جلد پیلی ہونا۔اینزائٹی۔پسینہ آنا۔بھوک زیادہ لگنا۔لرزہ و کپکپی طاری ہوناسردی لگنا۔ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہونا۔منہ کے ارد گرد سوئیاں چبھنے کا احساس۔نیند سے چلا کر اٹھ جانا۔حساس رویہ۔ وغیرہ۔

اگر ہائیپوگلائیسیمیا شدت اختیار کرجائے تو یہی علامات بڑھ کر کنفیوژن۔ ابنارمل رویہ۔ روز مرہ امور کے انجام دینے میں دقت۔ بینائی میں کمی۔ دماغی دورے۔ بیہوشی۔ بولنے میں دقت۔ یاداشت کی کمی کا باعث بن جاتے ہیں۔

_اسباب_ہائیپوگلائیسیمیا کی کیفیت خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ یونیفیکئشن تھیوری کے مطابق خون میں شکر کی کمی سے کیٹابولزم (استحالہ) کا عمل سست ہوکر سردی یعنی خدر کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہونے لگتے ہیں۔ گلوکوز چونکہ دماغ و اعصاب کی غذا ہے لہذا عدم غذائیت کے سبب دماغی افعال کا فتور ہوکر اعصابی کمزوری۔ حتی کہ بیہوشی طاری ہوسکتی ہے۔

_خون میں گلوکوز کا توازن_یہ جاننے کیلیئے کہ ہائیپوگلائیسیمیا کیسے واقع ہوتا ہے۔ ہمیں خون میں گلوکوز کا توازن برقرار رکھنے والے فطری عمل کو سمجھنا ہوگا۔ جب ہم غذا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس کو توڑ کر شوگر کے مختلف مالیکیولز بشمول گلوکوز میں تقسیم کردیتا ہے۔ واضع ہوا کہ غذاء سے ہی گلوکوز بنتا ہے۔ گلوکوز جسمانی انرجی کا سب سے بڑا اور بنیادی زریعہ ہے۔ مگر یہ خلیات میں انسولین کی مدد کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ انسولین لبلبہ سے ترشح پانے والا ایک ہارمون ہے۔ جب خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھتی ہے تو لبلبہ کے بیٹا خلیات خون میں انسولین کا افراز کرتے ہیں یہی انسولین گلوکوز کو خلیات میں داخل کرتی ہے اور خلیات کو ایندھن فراھم کرکے ان کے افعال میں تواتر پیدا کرتی ہے۔ جبکہ اضافی گلوکوز جگر اور عضلات میں گلائیکوجن کی صورت زخیرہ ہوتا رہتا ہے۔ مثلا اگر ہم کئی گھنٹے بھوکے رہیں اور خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہوجائے تو لبلبہ کا ایک دوسرا ہارمون گلوکاگون ترشح پاکر جگر کو زخیرہ شدہ گلائیکوجن خون میں شامل کرنے کا حکم دیتا رہتا ہے۔ جس سے خون میں گلوکوز کی شرح حسب ضرورت برقرار رہتی ہے۔جگر کا گلائیکوجن کو توڑ کر گلوکوز میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم میں گلوکوز بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ یہ عمل ابتدائی طور پہ جگر اور گردوں میں وقوع پزیر ہوتا ہے۔

_شوگر کے مریض میں ہائیپوگلائیسیمیا کی وجوہات_شوگر کے مریضوں کو انسولین کی زائد مقدار نہیں لینی چاہیئے۔ اس سے خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہوکر ہائیپوگلائیسیمیا کا خطرہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں شوگر کی ادویہ کھانے کے بعد مناسب غذا نہ لینے یا زیادہ جسمانی مشقت سے بھی ہائیپوگلائیسیمیا ہوسکتا ہے۔

غیرذیابیطس افراد میں ہائیپوگلائیسیمیا کے اسباب

1۔ میڈیکیشن۔ حادثاتی طور پہ بلڈ گوکوز کم کرنے والی ادویہ کھالینا۔ملیریا کی دوا کونین کا استعمال۔کڈنی فیلیئر کی ادویہ کا استعمال۔پین کلرز اور انیستھیزیا کا استعمال۔2۔ خالی پیٹ الکوحل کا استعمال کرلینا جگر سے ژخیرہ شدہ گلوکوز کو دوران خون میں بھیجنے کا عمل روک کر ہائیپوگلائیسیمیا پیدا کرسکتا ہے۔3۔ بعض شدید امراض۔ جگر کے شدید امراض مثلا ہیپاٹائٹس (جو آخری درجہ خدر میں ہو۔ گردوں کی چوتھے درجہ کی خرابی جو فضلات بدن اور ادویات کو مکمل خارج نہ کرسکے۔امراض قلب۔

4۔ لمبے عرصہ کی فاقہ کشی۔Eating disorderenoraxia starvation

5 _انسولین کی زائد پیدائش_لبلبے میں ٹیومر بننا اور insulinoma انسولین کی زائد پیدائش ہائیپوگلائیسیمیا کا موجب بن سکتا ہے۔خدر کے درجہ میں بدن کے دیگر ٹیومرز بھی insuline-like مادے پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔

6 _بیٹا خلیات کی غیر فطری بڑھوتری اور انسولین کی زائد پیدائش_نیزائڈیو بلاسٹوسس nesidioblastosis ہائیپوگلائیسیمیا کا سبب بنتی ہے۔7 _ہارمونز کی کمی_ایڈرینل گلینڈ اور پیچوٹری گلینڈ کی خرابی کے نتیجےمیں گلوکوز کی پیدائش کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کی کمی یا بچوں میں گروتھ ہارمونز کی کمی ہائیپوگلائیسیمیا کا سبب بنتی ہے۔8 _غذاء کھانے کے بعد یائیپوگلائیسیمیا ہونا_ہائیپوگلائیسیمیا عموما بھوک کے سبب پیدا ہونے والی صورت حال ہے لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا بعض اوقات کھانا کھانے کے بعد انسولین کی زائد پیدائش سے بھی ہائیپوگلائیسیمیا ہوجاتا ہے۔ اس قسم کو reactive یا post brandial ہائیپوگلائیسیمیا کہتے ہیں۔ یہ عموما ان لوگوں میں پیدا ہوتی ہے جن کے معدہ کی سرجری ہوچکی ہو۔ لیکن ان لوگوں میں بھی ہوسکتی ہے جن کے معدہ کی جراحت نہ ہوئی ہو۔

_ہائیپوگائیسیمیا سے پیدا ہونے والی شدید پیچیدگیاں_ہائیپوگلائیسیمیا کی علامات کو عرصہ دراز تک نظر انداز کرتے رہنا بیہوش طاری ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کا سبب دماغ کو مناسب افعال کیلیئے درکار گلوکوز کا کم ملنا ہے۔ہائیپوگلائیسیمیا کی علامات فوری توجہ کی متقاضی ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہی کیفیات بڑھ کر دماغی دوروں۔ بیہوشی۔ کوما اور موت کا سبب بنتی ہیں۔ نیز ہائیپوگلائیسیمیا کے سبب چلتے ہوئے گرجانا۔ چوٹ لگنا اور ڈرائونگ کے دوران حادثات بھی ہوسکتے ہیں۔

_احتیاطی تدابیر_اگر آپ شوگر کے پرانے مریض ہیں تو خون میں شوگر کی کمی آپ کے لیئے بے آرامی اور خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ بار بار ہائیپوگلائیسیمیا کے خطرے کو روکنے کیلیئے انسولین کی کم مقدار لیں۔ تاکہ خون میں گلوکوز کی مقدار خطرناک حد تک کم نہ ہو۔ ہائیپوگلائیسیمیا ممکنہ طور پہ اعصاب۔ خون کی نالیوں۔ اور مختلف اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں شوگر کے مریض ہائیپوگلائیسیمیا اٹیک سے بچاو کیلیئے اپنے جسم سے منسلک Continuous Glucose Monitor کا استعمال کر رہے ہیں جو انہیں خون میں گلوکوز کی کمی بیشی کی بروقت اطلاع کردیتا ہے۔جن افراد کو شوگر نہیں ہے اور خدر کے باعث بار بار ہائیپوگلائیسیمیا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ دن میں بار بار تھوڑا تھوڑا کھانا کھاکر خون میں شوگر کی مناسب مقدار برقرار رکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ کار اس مرض کے حملے سے آپ کو عرصہ دراز تک محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ بہتر ہے ہائیپوگلائیسیمیا کی علامات کا احساس ہوتے ہی کسی قابل معالج سے رجوع کریں۔

_یونیفیکیشن تھیوری کے مطابق ہائیپوگلائیسیمیا کا علاج_اوپر بیان کیلیئے گئے ہائیپوگلائیسیمیا کے تقریبا تمام اسباب جسم و خون میں سردی و برودت کی دلیل ہیں۔ علاج کیلیئے اپنا خون پتلا رکھیں۔ گرم تر سے تر گرم درج زیل اغذیہ استعمال کریں۔۔۔۔۔ناشتہ۔۔۔ مربہ آم۔ ادرک کا حلوہ۔ تلبینہ۔ گندم اور مونگ کی چھلکے والی دال۔ دیسی گھی میں ادرک اور بادام چھلے ہوئے باریک کرکے ہلدی۔زیرہ۔ سیاہ مرچ اور نمک ڈال کر مصالحہ بھون لیں توش پہ لگا کر کھائیں۔ اوپر سے زیادہ دودھ والی چاہے پی لیں۔ سونف پودینہ یا ادرک پودینہ کا جوشاندہ بھی پی سکتے ہیں۔ سوجی یا کدو کا حلوہ۔ حریرہ۔ خمیرہ بادام۔ مربہ گاجر۔ دودھ میں سونف اور چھوٹی الائچی ابال کر پیئیں۔دوپہر کا کھانا۔کدو۔ ٹینڈے۔ شلغم۔ گھیا توری۔ مونگ کی دال۔ دیسی شکر کی چوری۔ مولی گاجر۔ مونگرے۔ مغز بکرا۔ حلوہ کدو۔ اچار گاجر۔ دھنیا سبز اور زیرہ سفید کی چٹنی۔رات کو بھی یہی غذا استعمال کرسکتے ہیں۔_پھل اور مشروبات_کھجور۔ انگور۔ خربوزہ۔ خوبانی۔ پپیتہ۔ انجیر۔ کیلا۔ امرود۔ گرما۔ گنڈیریاں۔ بادام۔ گلقند۔ کھیرا وغیرہ۔مشروبات میں گائے بکری یا اونٹنی کا دودھ۔ سونف الائچی والی چاہے۔ شہد کا شربت۔ آم کا ملک شیک۔ سونف پودینہ کا قہوہ۔ شربت بزوری۔ شربت بنفشہ۔ کیلیے کا ملک شیک۔ گاجر کا جوس۔ گنے کا رس۔ دودھ چینی یا شہد ملا سونف

https://www.facebook.com/DrMohammadAmjadMalik/photos/a.321664118204612/663757060661981/type=3

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی