حاملہ عورت کو کروٹ کی سمت میں سونا

حاملہ خواتین کو کروٹ سونے کا مشورہ کیوں؟

سائنسدانوں نے خواتین کو دوران حمل کروٹ سونے کا مشورہ دیا ہے

سائنسدانوں نے حاملہ خواتین کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش سے تین مہینہ قبل سے کروٹ سوئیں تاکہ مردہ بچے کی پیدائش سے بچا جا سکے۔

ایک ہزار خواتین پر کی جانے والی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ اگر خواتین حمل کی آخری سہ ماہی میں پیٹھ کے بل سوتی ہیں تو بچے کی موت کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔

اس تحقیق میں 291 ایسی خواتین کے معاملے کی جانچ کی گئی ہے جن کے ہاں مردہ بچے پیدا ہوئے تھے جبکہ تحقیق میں 735 ان خواتین کے معاملے کی بھی جانچ کی گئی تھی جنھیں زندہ بچے پیدا ہوئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ خواتین جس انداز میں سوتی ہیں وہ بہت اہم ہے اور جب وہ بیدار ہوتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ وہ اپنی پیٹھ کے بل سو رہی تھیں تو انھیں اس بات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ ہر سوا دو سو بچے کی ولادت میں ایک مردہ بچہ پیدا ہوتا ہے جبکہ اس تحقیق کے مصنفوں کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کروٹ سوئیں تو سال میں کم از کم 130 بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

کروٹ سونے کے نسخے

اپنے پیچھے تکیہ یا تکیے لے لیں تاکہ کروٹ سونے میں مدد ملے

جب رات میں بیدار ہوں تو سونے کی اپنی پوزیشن کی جانچ کریں اور پھر کروٹ سونے کی کوشش کریں۔

رات کی طرح دن میں بھی اس پوزیشن پر ہی آرام کرنے کی کوشش کریں۔

اگر رات میں پیٹھ کے بل سوتے ہوئے بیدار ہوں تو پریشان نہ ہوں بلکہ کروٹ لے کر سو جائيں۔

اس تحقیق میں دائیں اور بائیں کروٹ سونے کی وجہ سے کوئی فرق نظر نہیں آیا ہے۔

مردہ بچے کی پیدائش کے خطرے کے اضافے کے بارے میں وثوق کے ساتھ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن بہت سے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جب کوئی حاملہ خاتون پیٹھ کے بل سوتی ہے تو بچہ اور بچہ دانی دونوں کا وزن خون کی نلی پر اثر ڈالتا ہے جس سے بچے میں آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے۔

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی