فیسبک پہ طبی مشورے

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

پیاری بہنو ۔۔۔!!

آج کل سوشل میڈیا خاص کر فیسبک پہ کچھ لوگ ہیلتھ کیئر یا طبی مشورے برائے خواتین جیسے ناموں کے اکاؤنٹس یا پیجز سے آئی ڈی بنا کر خواتین کے پوشیدہ اور مخصوص امراض کے علاج کے چند بنیادی نکات اجاگر کر کے انباکس اور کمینٹس میں خواتین سے شرم و حیاء سے عاری گہرے سوالات کر رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض الٹے سیدھے ٹوٹکے بھی بتا رہے ہوتے ہیں۔

امراض سے متاثرہ خواتین بھی اپنے پوشیدہ عوارض کی کیفیت اوپن وال پوسٹ کمینٹس میں بھی اور انباکس میں بھی بیان کرتی ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ مدمقابل جواب دینے والی ہستی عورت ہے یا مرد؟ یا آیا وہ مرد یا عورت ان پوشیدہ جنسی امراض پر سوالوں کے جواب دینے کے مستند اہل بھی ہیں یا نہیں؟ کہ وہاں پوسٹ اینڈ وال ہیڈ میں تو بس اتنا ہی لکھا ہوتا ہے کہ پوشیدہ امراض کے ٹوٹکے ۔۔۔!!

گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک طبی ٹوٹکہ اکاؤنٹ پہ بہت ساری بہنیں سوال و جواب میں مصروف تھیں۔ جب میں نے وہاں پہنچ کے بہت سارے اہم اور گہرے متعلقہ سوالات کیئے جن کا جواب ایڈمن سے نہ بن پایا تو میں نے وہیں پہ ان سادہ لوح بہنوں کو اپنے کمینٹ سے متنبہ و خبردار کر دیا کہ ۔۔۔

یہ طبی شعبہ سے یکسر ناواقف آدمی خواتین سے گفتگو میں محض اپنی ذاتی جنسیاتی تسکین کے لیئے آپ بہنوں کے سامنے محض طبی ٹوٹکوں کی کوئی مستند یا غیر مستند کتاب سامنے رکھ کے بڑے حکیم صاحب بنے بیٹھے ہیں۔

تو مجھے وہاں سے بلاک کر دیا گیا۔

بہنو ۔۔۔!!! دھیان سے میری بات سنیئے۔

ایسے لوگوں کا طریقہ واردات کیا ہوتا ہے؟ زیر بحث بیماری کو ایک سنگین تر بیماری بیان کرتے ہیں۔ پھر اس بیماری کے چہرے کی سرخ و سفید رنگت پہ زردی مائل اثرات پڑنا بیان کرتے ہیں۔ پھر چہرے کی رنگت خود دیکھنے کے لیئے آپ کی واضح اور کلیئر ڈے لائٹ پکچر مانگتے ہیں۔

قبول صورت کیس کو تسلی دلانے سے پہلے اور زیادہ ڈراتے ہیں کہ آپ کی شادی کی صورت آپ کے شوہر کو اس بیماری کے فلاں فلاں اثرات بڑے ناگوار اور ناپسندیدہ گزریں گے۔ لیکن گھبرانا نہیں میرے پاس اس کی دوائی موجود ہے۔میں آپ کا پرسنل خصوصی علاج کر سکتا ہوں۔

لیکن اس کے لیئے مجھ پر آپ کو بھروسہ کرنا پڑے گا۔ اپنا واٹس ایپ نمبر اور ڈاک/کوریئر کا پتہ بتائیے۔ کہ جس پر آپ کو دوا بھیجنی ہے۔ ویسے تو یہ دوا مارکیٹ میں انتہائی قیمتی ہے لیکن آپ کا اخلاق مجھے اچھا لگا کہ آپ صرف نسخہ کی لاگت دے دینا۔ جو کہ اتنے ہزار بنتی ہے۔ یا پھر آپ کو یہ دوا بالکل مفت دے دیتا ہوں، کیا یاد کریں گی۔

یہاں سے واٹس ایپ یا فب انباکس افیئرز جنسیاتی اشتہاء انگیز گفتگو سے شروع ہو کے پرسنل قابلِ اعتراض داغدار ملاقات پر منتج ہونے کا قوی احتمال ہوتا ہے۔

لہٰذا ہمیشہ مستند حکیم یا ڈاکٹرز سے ہی رجوع کریں۔ اور سوشل میڈیا کے ہیلتھ سینٹرز سے قطعاً دور رہیں۔ یہ مشورہ مرد حضرات کے لیئے بھی ہے کہ حکیم یا ڈاکٹر کے پاس پرسنلی فزیکلی خود جا کے کسی بھی بیماری کا علاج معالجہ کروائیں۔ آنلائن اسٹیرائڈز میڈیسن سے خود کو تاعمر بچائے رکھیں۔ اسٹیرائڈز حیات نہیں موت ہے۔ جبکہ آنلائن میڈیسنز کا اسی فیصد تک جُز اسٹیرائڈز ہی ہوتے ہیں۔

ایک چیز اور #رحنیم_خان بہن کی پوسٹ میں شامل کر دوں کہ انباکس میں امپورٹڈ خوشنما زنانہ زیر جاموں کی ایک وسیع رینج کی کلیکشن مختلف سائز کوڈز کے ساتھ فوٹوز بھیج کے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ہمارا بزنس ہے۔ آپ کو زیر جامے چاہیئں تو اپنا واٹس ایپ نمبر ایمو نمبر یا موبائل فون نمبر اور ایڈریس دیں۔

تو ایسے لوگوں کو کسی صورت لفٹ نہ کرائیں۔ دیکھتے ہی فوراً بلاک کریں۔ ان کا مقصد کاروبار نہیں بلکہ بعض گھناؤنے مذموم مقاصد کے لیئے خواتین کے نجی کوائف اکٹھے کرنا ہوتا ہے۔

اگر آپ کو یہ چیزیں ضرور ہی خریدنا ہیں تو اول تو قریبی مارکیٹ سے خریدیں۔ ورنہ معروفِ عام آنلائن شاپنگ مالز سے خریدیں۔ لیکن نجی انفرادی انباکس آفرز کو کسی بھی پراڈکٹ کی خریداری کی گھاس نہ ڈالیں۔

تو عزیز بہنو ۔۔۔!! یہ انٹرنیٹ کی دنیا ایک خطرناک ترین سائبر جنگل ہے۔ کہ جہاں ہر گام پہ شکاری درندے میٹھی میٹھی خوشامدانہ باتوں کے جال لیئے آپ کی عصمت و عزت پر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ اگر آپ واقعی ہی اسلامی عقیدہ و ارادہ سے خود کو عفت مآب اور پاک باز رکھنا چاہتی ہیں۔ تو ایسی شکاری ہائیڈ آؤٹس سے کوسوں دور رہیئے۔

جزاک اللہ خیرا ۔۔۔ اللہ رب العزت سب بہنوں بیٹیوں اور ان کے خاندانوں کی عزت و آبرو کو شکاریوں کے شر سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین

بشکریہ _ Rehnim Khan

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی