ذیابیطس اسباب علامات و علاج

ذیابیطس اسباب علامات و علاج

ذیابیطسذیابیطس جس کو عرف عام میں شوگر بھی کہا جاتا ہے اس بیماری میں خون میں گلوکوز کا تناسب ایک حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ دنیا میں یہ مرض تیزی کےساتھ پھیل رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان انڈیا اور چین میں لوگ کی بڑی تعدا د اس مرض کا شکار ہورہی ہے۔ذیابیطس کی دو اقسام ہیں۔ذیابیطس قسم اولذیابیطس قسم دومذیابیطس قسم اول عمر کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے ،اس میں انسانی جسم میں انسولین بنانے کی صلاحیت یا تو ختم ہو جاتی ہے یا پھر کم ہوجاتی ہے۔دوسری قسم کی ذیابیطس کا شکار زیادہ ترعمر رسیدہ لوگ ہوتے ہیں اور اس میں خون میں گلوکوز کی تعداد ایک حد سے بڑھ جاتی ہے ۔ پہلی قسم کی ذیابیطس میں انسولین سرے سے موجود نہیں ہوتی جبکہ دوسری قسم کی ذیابیطس اس انسولین کے خلاف مزاہمت پیدا ہو جانے کی وجہ سے ہو جاتی ہے۔دوران حمل بھی دو سے پانچ فیصد خواتین ذیابیطس کا شکار ہوجاتی ہیں یہ اس کی تیسری قسم ہے۔انسولین کیا ہے؟انسولین ایک ہارمون ہے جو لبلبے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسولین کی مثال ایک چابی کی سی ہے جو گلوکوز کو خلیوں کے اندر داخل ہونے میں مدد دیتی ہے۔انسولین ایک ہارمون ہے جو کہ شوگر(گلوکوز) ،سٹارچ او ر دوسری غذاؤں کو روزانہ زندگی گزارنے کے لئے توا نائی میں تبدیل کرتاہے ۔تندرست شخص میں انسو لین خون کی چینی ( گلو کوز) کو بدنی خلیے میں داخل ہونے میں مدد کرتی ہے اور اسے طاقت میں تبدیل کرتی ہے۔ لیکن جو شخص شوگر کا مریض ہو تا ہے اس میں لبلبہ کافی مقدار میں انسو لین پیدا نہیں کرتا ۔ اس لئے شوگر بد ن میں داخل ہو نہیں پاتی بلکہ خون میں ٹھہر جاتی ہے ۔ اس سے خون میں شوگر کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔ذیابیطس (شوگر)کا مرض کن لوگوں کو ہوتاہے؟ہر شخص ذیابیطس (شوگر) کا مریض ہو سکتاہے ۔ لیکن بچوں کی نسبت جوان زیادہ اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیںجس شخص کے خاندان میں یہ مرض ہو وہ اس شخص کی نسبت زیادہ مرض کیلئے مستعد ہے جس کے خاندان میں پہلے یہ مرض نہیں پایا جاتا جس شخص کا وزن معیار سے زیادہ ہو وہ اس شخص سے زیادہ استعداد رکھتاہے جس کا وزن معیا ر کے مطابق ہو ۔45 سے 700 سال کے درمیان عمر رسیدہ اشخاص ان لوگو ں کی نسبت مرض قبول کرنے کی استعداد زیادہ رکھتے ہیں جن کی عمر اس سے کم ہے ۔غیر شادی شدہ مرد شادی شدہ مرد کی نسبت قبولیت مرض کی زیادہ استعداد رکھتاہے ۔عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ اس مرض کا شکا ر ہوتیں ہیں ۔ایک شادی شدہ عورت غیر شادی شدہ کی نسبت زیادہ اس مرض کے چنگل میں پھنسنے کی استعداد ررکھتی ہے ۔ذیابیطس (شوگر) کی علاماتمرض کی شدت اور خفت کے لحاظ سے مختلف مریضوں میں مختلف علامات پائی جاتی ہیں۔مگر عام طور پر مریضانِ ذیابیطس میں مندرجہ ذیل علامات بتدریج پیدا ہوتی ہیں ۔کثرت بول: پیشاب کا مقدار سے زیادہ آنا اور بار بار آنا۔شدت تشنگی: پیاس کی زیادتی۔کمی وزن: تندرستی کی حالت میں جس قدر وزن ہومرض کی وجہ سے اس میں کمی ہو جاتی ہے۔ضعف عامہ بدن: عام جسمانی کمزوری ،اعصابی کمزوری ۔تکان: پنڈلیوں میں درد ، سر چکرانا ، پسینہ آنا، ہونٹوں میں جھنجھاہٹ ، چال میں ڈگمگاہٹ۔خصیتین و جلد کی خارش۔نظر کی کمزوری: دھندلا دکھائی دینا۔جلد کی خرابیاں پھوڑے کارینکل چھوت دار امراض۔جنسی کمزوری۔اگر یہ علامتیں بہت شدت کے ساتھ ظاہر ہوں تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور شوگر ٹیسٹ کروانی چاہیے۔اگر اس بیماری کا جلد علاج شروع نہ کیا جائے تو ابتدائی طور پر بے ہوشی،جلد کے امراض اور تیزابیت ہوسکتی ہے اور بعد میں گردوں کی خرابی ،آنکھوں کی بینائی کا متاثر ہونا ، دل کا عارضہ،فالج اور زخم کی خرابی کے باعث پاؤں یا ٹانگ کا نچلا حصہ کاٹنا پڑ جاتا ہے۔ذیابیطس کا علاج صرف دوئی اور پرہیز سے ہی ممکن ہے،جو لوگ ڈاکٹر کی دی ہو ادویات اور مشورے پر عمل کرتے ہیں وہ بہت آرام سے ایک مستعد زندگی گزار رہے ہیں۔ذیابیطس ٹائپ ون میں انسولین کے انجکشن لگائے جاتے ہیں جبکہ ٹائپ ٹو میں دوا اور غذا کے ذریعے سے شوگر کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔دوا کے ساتھ ساتھ اس مرض میں مبتلا افراد کے لے روزانہ تیس منٹ چہل قدمی بہت ضروری ہے۔ میٹھے سے ہر ممکن طور پر پرہیز کریں اور میٹھا کھانا مقصود ہو تو مصنوعی شکر کا استعمال کریں۔اجناس کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں اور چکنائی سے پرہیز کریں۔گھی سے پرہیز کریں اور اگر استعمال ناگزیر ہے تو تیل استعمال کیا جائے۔بیکری کی اشیاء سے بالکل دور رہاجائے اور تازہ سبزیوں اور سلاد کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔اس کے ساتھ پانی کا استعمال بہت زیادہ کریں دن میں کم از کم دس گلاس ضرور پیے جائیں۔خون میں شوگر کی مقدارآٹھ گھنٹے خالی پیٹ ہونے کے بعد خون میں شوگر کا ٹیسٹ100ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم- نارمل100ملی گرام سے 126ملی گرام – پری ذیابیطس126ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ دو مختلف موقعوں پر – ذیابیطسدو گھنٹے والا منہ کے ذریعے گلوکوز برداشت کرنے والا ٹیسٹ140ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم- نارمل140 سے 200ملی گرام فی ڈیسی لیٹر – پری ذیابیطس2000 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ- ذیابیطسA1Cمعائنہ (اے – ون – سی)۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں میں آپ کے خون کا گلوکوز کیا رہاہے۔ بہت سارے لوگوں کے لئے A1Cہدف 7سے نیچے ہے ،اپنی طبینگہداشتی ٹیم سے آپ کیلئے مناسب A1Cہدف کے بارے میں در یافتکیجئے۔ذیابیطس کی پیچدگیاں۔ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی مختلف بیماریوں کا امکان کافی بڑھ جاتاہے۔ اس لیے ذیابیطس کے مریض کو چاہیے کہ چیک اپ کرتے ہیں۔اعصاب کا متاثر ہونا۔دل کا دورہ اور فالج• آنکھوں کے مسائل،جو بینائی میں خرابی یا بینائی سے محرومی کا باعث بنسکتے ہیں• اعصابی بگاڑ جس کے باعث آپ کے ہاتھ اور پیروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے،انمیں سنسناہٹ ہوسکتی ہے،یا وہ سن ہوسکتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے پیر یا ٹانگسے محروم بھی ہوسکتے ہیں۔ خون کی گردش کو ٹھیک رکھنے کے لیے اگر آپ ہفتہ دس دن بعد ارنیکا اور لیکیسس کی 200کی ایک خوراک لے لیں تو بڑی حد تک آپ ان مسائل سے بچ سکتے ہیں۔• گردے کی تکالیف جو آپ کے گردے کے افعال کو بند کرنے کا باعث ہوسکتی ہیں۔ گردے کی بیماری کی صورت میں Vesicaria Q کے پانچ قطرے پانی میں ملا کر دن میں تین چار بار۔• مسوڑھوں کی بیماری اور دانتوں سے محرومی.ذیابیطس (شوگر) کے مریضو ں کے لئے خوراک1۔ یہ چیزیں منع ہیں ۔ چینی ، گڑ، گلوکوز، شہد، جام ،مارملیڈ، شربت، سکوائش، فراسٹ اور اس قسم کےدوسرے جوس، پیپسی کولا، سیون اپ، کوکا کولا، ڈبوں میں بند پھل ،گھی یا تیل میں تلے ہوئے کھانے، مکھن ، بالائی ، چربی والا گوشت، مٹھائی ، چاکلیٹ ، سوئٹس، ٹافی،میٹھے بسکٹ ، کیک پیسٹری ، کوکو نٹ ، کریم رول، حلوہ ، کسٹرڈ، بوڈنگ، زردہ ، آئس کریم ، خشک میوہ جات، آلو کے چپس، آم ، انگور، گنڈیریاں ، گنے کا رس اور کھجور۔2۔ یہ چیزیں کم مقدار میں استعما ل کریں ۔دودھ، دہی (بالائی کے بغیر) ، روٹی ، چاول ، رس، بند، ڈبل روٹی ، نمکین بسکٹ ، دلیہ ، کارن فلیکس، انڈہ ، مارجرین ، پنیر، چنے کی دال ، مسور کی دار، لوبیا، سیب ،آمرود، گرما ، خربوزہ ، ناشپاتی ، آڑو، خوبانی ، آلو بخارہ ، مالٹا ، کینوں ، لوکاٹ ، کیلا، تربوزہ، گاجر ،چقندر ، آلو۔33۔ یہ چیزیں بھوک کے مطابق استعمال کریں ۔پانی ، چائے ، قہوہ (بغیر چینی کے )، گوشت (بغیر چربی کے )،مرغی ، قیمہ ، سبزیاں ، مولی ، گاجر، ٹماٹر پیاز ، لہسن، ادرک، پودینہ ، دھنیا ، ہری مرچ، کریلا ، پالک ،ساگ، کھیرا ، کدو، توری ، بھنڈی ، ٹینڈے ، پھلیاں ، مٹر ، شلجم ،بینگن ، نمک ، مرچ مصالحہ ، سرکہ ، سرکے والا اچار، نمکین لسی ، نمکین سکنجبین ، جامن ، فالسہ ، چکوترہ ،ڈائیٹ کوک ، ڈائیٹ سیون اپ، ڈائیٹ پیپسی ، چینی کی بجائے استعمال ہونے والی گولیاں یا پاؤڈر۔4۔دن میں تین کی بجائے پانچ چھ دفعہ کھانا کھائیں۔ میری مراد یہ ہے کہ جتنا کھانا تین بار میں کھایا جاتا ہے اتنا کھانا تین کی بجائے پانچ یا چھ دفعہ کھایا جائے۔ کیونکہ ایک ہی دفعہ زیادہ کھانا کھانے سے شوگر زیادہ ہو جاتی ہے اور وقفہ زیادہ ہونے کی وجہ پھر کم بھی ہو جاتی ہے۔ اگر دو گھنٹے یا تین گھنٹے بعد آپ کھانا کھائیں گے تو شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور اس طرح پیٹ بھی نہیں بڑھتا۔۔۔ اپنی خوراک میں تیل اور تیل سے بنی ہو ئی اشیا کی مقدار کم کر دیں۔ کم تیل والی غذائیں صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔ تیل آپ زیتوں کا استعمال کریں لیکن یاد رہے کہ بہت زیادہ پکا کر کھانے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر زیتوں کے تیل سے آپ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو کچا تیل استعمال کریں۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے ضروری ہےکہ اپنی روزمرہ خوراک میں تیل کی مقدار کم کریں ۔6۔مکھن کھانا چھوڑ دیں ، پینر کا استعمال زیادہ کر دیںچربی والے گوشت کی بجائے کم چربی والا گوشت جیسے مرغی اور پرندوں کا گوشت اور مچھلی کھائیں۔ 7۔8۔اس طرح دودھ کریم نکلا ہو استعال کریں اس سے بھی آپ کو اپنی خوراک میں چکنائی کم کرنے میں مدد ملے گی۔9۔کھانوں کو تیل میں تل کر یا روسٹ کرکے کھانے کی بچائے ۔ اوون یا سٹیم کے ساتھ پکا کر کھائیں۔10۔پھل اور سبزیاں۔ڈاکٹر کے مشورہ سے اگر آپ کے لیے روزہ رکھنا ممکن ہو تو ہفتہ میں ایک دفعہ روزہ رکھیں اس سے شوگر اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔ روزہ کے دوران اگر کمزوری محسوس ہوتو فورا روزہ توڑدیںسبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھا دیں ۔ اس طرح جسم کو درکار توانائی پوری کرنے میں مددملے گی۔ احتیاط سے معمولات زندگی میں خلل نہیں پڑتا، متوازن خوراک، باقاعدہ ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز،کھانے میں لمبا وقفہ نہ کرنے، نمک کا کم سے کم استعمال ان چیزوں کا دھیان رکھا جائے تو شوگر سے کبھی بھی معمولات زندگی متاثر نہیں ہوں گے۔ زیادہ تر افراد اس بیماری کے حوالے سے لا علمی کا شکار ہیں اس کی وجوہات،علاج کے بارے میں آگاہی بہت ضروری ہے بتائی گئی علامات میں سے کوئی بھی علامت آپ میں شدید طور پر سامنے آئے تو اپنا علاج خود نہ کریں بلکہ فی الفور معالج سے رجوع کریں کیونکہ اگر علاج نہ کرایا جائے اور احتیاط نہ برتی جائے تو یہ مرض قبل از وقت انسان کو موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے۔تاہم دوا،ورزش اور غذا میں توازن سے اس موذی مرض کو مکمل کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے ۔

نوٹ: جن لوگوں کو شوگر ہو انہیں چاہیں کہ جہاں وہ یہ خیال رکھیں کہ ان کی شوگر زیادہ نہ وہاں انہیں یہ بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ انکی شوگر خون میں کم نہ ہو۔ کیونکہ شوگر کی کمی بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اس لیے جن لوگوں کو ذیابیطس ہو انہیں چاہیے کہ وہ کوئی نہ کوئی میٹھی کھانے کی چیز ہر وقت اپنے پاس رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فورا استعمال کی جاسکے۔ اسی طرح رات کو سونے سے پہلے بھی کچھ نہ کچھ کھا لینا چاہیے خاص طور پر جب راتیں بہت لمبی ہوں ۔ اس سے نیند کے دوران آپ کا شوگر لیول کم نہ ہوگا بلکہ شوگر کی مقدار کنٹرول رہے گی۔ذیابیطس اور ورزشورزش ذیابیطس كے علاج كا ایك اہم حصہ ہےـ اگر آپ پہلے سے ورزش نہیں كر رہے تو آپكو جلد ہی اس بارے میں كُچھ سوچنا چاہیئےـ لیكن یہ ضروری نہیں كہ آپ آپنی بسا ط سے زیادہ ورزش كریںـ بہترین صورت یہ ہوگی كہ آپ كوئی ایسی ورزش اختیار كریں جو آپ كے لئے د ِلچسپ ہو اور آپكے روزانہ معمول كا ایك حصہ بن جائےـآپ میں سے بہت سے لوگ ایسے ہونگے جو باقاعدہ ورزش تو نہیں كرتے لیكن اُنكی عام مصروفیات كے دوران خود بخود ہی بہت سی ورزش ہو جاتی ہےـ آپ كُچھ دِنوں كےلئے آپنی مصروفیات كے دوران ہونے والی ورزش كا حساب ركهنے كی كوشش كریں تاكہ یہ اندازہ كیا جا سكے كہ آپكو مزید ورزش كی ضرورت ہے یا نہیں ـذیابیطس كے مریض ورزش كیوں كریں؟ورزش كرنے سے ورزش كے دوران اور بعد میں خون كی شوگر كم كرنے میں مدد ملتی ہےورزش انسولین کی بے اثری کو کم کرتی ہے جو کہ ذیابیطس قسم دوم کی بنیادی وجہ ہےذیابیطس افراد میں دل کے امراض کا جو اضافی خطرہ ہوتا ہے، اُسے کم کرنے میں مدد ملتی ہےاس كے علاوہ ورزش كرنے كے جتنے بهی طبی فوائد كسی عام آدمی كو ہو سكتے ہیں وہ ظاہر ہے كہ ذیابیطس كے مریض كو بهی حاصل ہوتے ہیںورزش كرنے كے عمومی فائدے۔آپكا بلڈ پریشر بہتر ہوگاآپكا دِل بہتر طور پر كام كرے گاآپكے دورانِ خون میں بہتری پیدا ہوگیآپ كی توانائی میں اضافہ ہو گاآپكو آپنا وزن كنٹرول كرنے میں مدد ملے گیآپكے سانس لینے میں بہتری پیدا ہو گیآپكے پٹهوں كا تناؤ كم ہو گاآپكے ذہنی تناؤ میں كمی ہو گیآپكی ہڈیاں اور پٹهے مضبوط ہونگےآپكے مزاج میں خوشگوار تبدیلی آئے گیآپ جسمانی طور پر اپنے آپ كو چاك و چوبند محسوس كریں گےذیابیطس افراد کیلئے ورزش كیسی ہو؟آپ کتنی اور کس قسم کی ورزش کر سکتے ہیں، اس کا انحصار آپ کی عمر، آپکی جسمانی حالت، اور آپکے مرض کی نوعیت پر ہے۔ مثلا ایک نوجوان لڑکا سارا دن کھیل کود کرتا رہے تو اُسکے لئے ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن ایک بزرگ جسکے جوڑوں میں درد ہے، اور ساتھ دل کی تکلیف بھی ہے، اُسکےلئے دس منٹ کی ورزش بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ اس لئے ورزش کا کوئی نیا پروگرام شروع کرنے سے پہلے بہتر ہو گا کہ آپ اپنے معالج سے مشورہ کر لیں۔ایک صحت مند اور درمیانہ عمر کے فرد کیلئے سب سے آسان اور نسبتاً محفوظ ایسی ورزشیں ہیں جن میں آپکے پٍٹھے بار بار سُکڑتے اور پھیلتے ہیں۔ مثلاً تیزی سے چلنا، دوڑنا، تیرنا، سائیکل چلانا اور اُچھنا کودنا وغیرہ۔وزن اُٹھانے والی ورزشیں، جیسا کہ باڈی بلڈنگ وغیرہ میں پٹھے چونکہ کافی دیر تک مسلسل اکڑے رہتے ہیں ، اسلئے خون کی نالیاں دبنے سے دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسی ورزشیں کرنا ہی نہیں چاہئیں، لیکن بہتر ہو گا کہ ایسی ورزشیں اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔ورزش کتنی ہو ؟آپکو کم از کم ہفتے میں 5 دن تقریباٰ 35 منٹ روزانہ تیز قدموں سے پیدل چلنا چاہئے۔ اگر مسلسل آدھا گھنٹہ چلنا آپکے لئے مشکل ہو تو آپ اسے دو یا تین حصوں میں تقسیم بھی کرسکتے ہیں۔ تاہم مسلسل آدھا گھنٹہ چلنا زیادہ مفید ہو گا۔ورزش كا بہترین وقت كیا ہوگاورزش كرنے سے چونكہ خون میں شوگر كم ہوتی ہے اس لئے ذیابیطس كے مریضوں كو خالی پیٹ ورزش کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ اسطرح اُنكے خون میں شوگر خطرناك حد تك کم ہو سکتی ہے۔اگر ورزش شروع كرتے وقت آپكو كهانا كهائے ہوئے ایك ڈیڑهـ گهنٹہ گزر چكا ہے تو بہتر ہے كہ پہلےآپ کُچھ كهالیں ـ درمیانے درجے كی ورزش كےلئے دو نمكین بسكٹـ،یا آدها كپ دودھ كافی ہوگاـ لیكن اگر آپ كوئی بهاری مشقت كرنا چاہتے ہیں تو اُسی حساب سے زیادہ خوراك لیں اور 20 سے 30 منٹ انتظار كر لیں تاكہ خوراك آپكے خون میں شامل ہو جائے۔?اب میں آپ کو اپنے طریقِ علاج اور ترکیب و ترتیب کے متعلق بتاتا ھوں جس سے الحمد لله 40 %زیابیطیس کے مریض شفاء کلی حاصل کرچکے ھیں اور اب کسی قسم کی شوگر کی دوا نہیں لیتے باقی 60 % شوگر کی پیچیدگیوں مثلاً گردوں کے عوارضات وغیرہ سے قطعی محفوظ ھیں اور شوگر کنٹرول ھے بغیر انسولین اور گولیوں کے ۔۔میرا معمول یہ ھے ۔۔?پہلےمرحلے میں بڑھی ھوئی شوگر کنٹرول کرنے کے لیے یہ نسخہ استعمال کریں۔?ھوالشافی:آبنوس 3 گرام، کشتہ ابرک نصف گرام، حرمل 5 گرام، افستین 4 گرام، اقاقیہ 1 گرام، نمک باجرہ 1 گرام، برگد کا دودھ حسبِ ضرورت۔ سواۓ کشتہ و دودھ کے سب دواؤں کو کوٹ پیس کر سفوف بنا لیں۔ پھر دونوں چیزیں ملا لیں تاکہ چنے برابر گولیاں بن جایں۔ 3 ٹایؑم 1-1 گولی پانی کے ساتھ لیں۔

?۔دوسرے مرحلہ میں شوگر مکمل رفع کرنے کے لیے یہ نسخہ استعمال کریں۔?ھوالشافی نمک بدھارا 3 گرام، نمک برہم ڈنڈی 2 گرام، برہمی بوٹی 5 گرام، پنیر مایہ بکرا 1 گرام، تج 5 گرام، تخم حیات 1 گرام، جاوتری 2 گرام، حرمل 5 گرام، جند بید ستر 1 گرام، زعفران نصف گرام، گوند کیکر 1 گرام۔ تمام ادویات کو نہایت باریک پیس چھان کر قدرے پانی ملا کر چنے برابر گولیاں بنا لیں۔ 3 ٹایؑم 1-1 گولی ہمراہ پانی یا کریم نکلے دودھ کے ساتھ دیں۔

? جب شوگر مکمل کنٹرول ہو جاۓ تو تیسرے مرحلہ میں یہ طاقت کے لیے نسخہ استعمال کریں۔ ?ھوالشافی:میتھی، درمنہ ترکی، مرزبخوش ہر ایک 5 گرام، زعفران نصف گرام، جرجیر 1 گرام، گل بھنگرا سیاہ 1 گرام۔ تمام دوایں پیس کر 2 پہر کھرل کریں۔ پھر شہد خالص کے مدد سے چنے برابر گولیاں بنا لیں۔ 2-2 گولی صبح دوپہر شام دودھ کے لیں۔داعی الخیر حکیم علی رضا جالندھری

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی