Daily health post Gonorrhea

Daily health post6_1_19

سوزاک۔۔۔۔ Gonorrhea

تحریر: حکیم سید رضا حیدر بخاری

یہ ایک چھوت دار مرض ھے جو جنسی میل جول سے پھیلتا ہے۔ اس کے اثرات عموما نظام بولیہ میں ازیت ناک علامات پیدا کرتے ہیں لیکن کچھ حالتوں میں مقعد۔ گلے۔ آنکھوں اور جوڑوں joints میں بھی اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ مرد عورت دونوں میں پایا جاتا ہے۔

سوزاک کا سبب۔۔یہ قشری عضلاتی (گرم خشک) مزاج کے افراد میں Neisseria gonorrhoeae نامی بیکٹریا سے ہوتا ہے اور جنسی مباشرت کے زریعے پھیلتا ہے۔ یہ جراثیم جسم سے باہر چند سیکنڈز سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

علامات۔۔۔۔۔۔پیشاب کی نالی میں جلن۔ سوزش و ورم اور زخم (قرح) بن جانا۔ جس کی وجہ سے پیشاب کی نالی سے رطوبت خارج ہوتی ہے جو بعد میں گاڑھی پیپ کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ یہ پیپ نالی سے رس کر کپڑوں کو لگتی رہتی ہے۔ پیشاب شدید جلن کے ساتھ آتا ہے۔ یہ پہلے درجہ کی علامات ہیں۔پھر علامات میں تخفیف ہوکر اچانک چند قطرے خون آنے لگتا ہے۔ خون کے فورا بعد لیسدار رطوبت خارج ہوتی ہے اس کے بعد پھر سے پیپ آنے لگتی ہے۔ مثانے اور منی کی تھیلیوں میں ورم بن جاتے ہیں۔عورتوں میں پیشاب کی نالی اور ورم رحم ہوجاتا ہے۔ ہلکا بخار رہنے لگتا ہے۔ جوڑوں میں درد۔ جسم میں کھنچاو۔ طبیعت میں سستی محسوس ہوتی ہے۔سوزاک کی حالتوں میں اکیوٹ نزلی التہاب کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جس کے بعد یہ مزید بالائی اعضاء میں پھیلنے لگتا ہے۔

مزمن حالت۔۔۔۔۔ پیشاب کی نالی میں زخم (قرح) بن جاتے ہیں۔ مرض احلیل سے آگے دیگر حصوں کو بھی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ غدہ مذی بھی اس کی زد میں آجاتا ہے۔ مزمن درجہ میں گونوکوکسی اکثر غدہ کی نالیوں کے اندر پناہ لے لیتے ہیں۔ نیز یہ جراثیم خصیہ کی نالی کے زریعے خصیئتین میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں التہابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور وہاں پیپ بننے لگتی ہے۔ مرض کا زور ٹوٹنے کے بعد نتیجہ عام طور پر قنواتی انسداد کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ اور نر تولیدی مادے کی نالیوں میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ کبھی دونوں خصیئتین لپیٹ میں آجاتے ہیں جس کی وجہ سے مکمل اخراج منی میں رکاوٹ اور بانجھ پن پیدا ہوجاتا ہے۔ کبھی گونوکوکسی کی وجہ سے سرایئت مثانہ کے بعد ورم مثانہ ہوجاتا ہے جسکی وجہ سے اکثر مثانہ کے اندر ثانوی سرایئت اور ورم مثانہ کی حالت دیکھنے میں آتی ہے۔سوزاک کے جراثیم دوران خون کے زریعے دیگر جسمانی اعضاء میں بھی التہابی کیفیات پیدا کرسکتے ہیں۔ یہ مرض عورتوں کی نسبت مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔یہ مرض قشری عضلاتی تحریک و تیزی میں خوب پھلتا پھولتا ہےنبض قشری عضلاتی اور آخری انگلی پر نہایت شدید ہوتی ہے۔ اس کی خاص علامت نبض کی شدت کے ساتھ بخار اور کرب اذیت میں مبتلاء ہونا ہے۔سوزاکی قرح کو قشری کینسر سمجھ کر علاج کرنا چاہیئے یعنی پیپ پیدا کرنی ہے۔ مرض کی پیتھالوجی اور اس کے درجات جانے بغیر دواء نہیں دینی چاہیئے۔ اگر مرض کا درجہ جانے بغیر حابس اور بارد ادویہ و پچکاریاں استعمال کروائی جائیں تو سوزاک کے مزمن قرح بن جاتے ہیں۔

علاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابتدائہ درجہ میں ایچ67 دو حصے۔ ادراری ایک حصہ۔ ملا کر تین گرام دن میں چار مرتبہ ہمراہ شربت بزوری بارد دیں۔اگر مرض ورم کے درجہ میں ہو تو اعصابی مخاطی ملین۔ اور اعصابی قشری ملین دو ایک کی نسبت سے ملا کر چار گرام اور ایک ایک حب بندق دن میں چار بار ہمراہ شربت بزوری بارد سے دیں۔اگر پیپ پڑچکی ہو تو ایچ 67 تین گرام کے ساتھ ایک گرام اعصابی قشری تریاق ملا کر دن میں تین بار ہمراہ دودھ دیں۔اگر مزمن قرح بن چکے ہیں تو اعصابی قشری ملین ایک گرام دن میں چار بار ہمراہ دودھ دیں۔ جب قرح میں نرمی آکر پیشاب سہولت سے خارج ہونے لگے تو اعصابی قشری ملین کے ساتھ برابر وزن اعصابی مخاطی ملین ملا کر چار گرام دن میں تین بار ہمراہ دودھ دیتے رہیں۔ اس عمل سے قرح میں پیدا ہونے والی رطوبت ساتھ کے ساتھ خارج بھی ہوتی رہے گی۔

غذائیں۔۔۔۔۔۔۔۔شروع سے آخر تک اعصابی قشری و اعصابی مخاطی دیتے رہیں۔

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی