چنبل ایک جلدی مرض ہے

چنبل

یہ ایک جلدی مرض ہے۔ جس میں جلد پر سوزش ہو کر جلد کی سطح صرف ( سیپ ) کی اوپر والی سطح کی طرح کھردری ہو جاتی ہے اور کبھی اس پر مچھلی کی طرح جلد کے خشک چھلکے اترتے ہیں۔ آغاز مرض میں چھوٹے چھوٹے سرخ گلابی دانے بنتے ہیں ان پر چھلکوں کی تہہ جم جاتی ہے۔ کھرچنے سے چھلکے دور ہو جاتے ہیں کچھ وقت کے بعد پھر بڑھنے لگتے ہیں اور پھر یہ سوزش بڑھ کر کافی جگہ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اگر کوئی مناسب تدبیر نہ کی جائے تو متاثرہ مقام کی جگہ بڑھتی جاتی ہے۔ یہ بڑا ضدی مرض ہے اور جلدی سے نہیں جاتا۔ سخت تکلیف دہ ہوتا ہے اس کا زیادہ زور کہنیوں، بازوؤں، گھٹنوں، ٹانگوں، کھوپڑی اور کمر کے حصوں پر ہوتا ہے۔

زبان طب میں اسے چنبل کا نام دیا گیا ہے جبکہ اردو میں اپرس صدفہ جبکہ انگریزی میں سورائس ( Psoriasis ) کہتے ہیں۔ اس کے لیے ایک انگریزی اصطلاح ایگزیما ( Eezema ) بھی مشتمل ہے اور آج کل زیادہ اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ طب مشرقی کے مطابق اس کا شمار سوداوی امراض میں ہوتا ہے اس میں زہریلا بدنی مواد جسم کے کسی حصے پر جلد کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بڑا تکلیف دہ مرض ہے جو جلد کی ماہیت پر کچھ اثر انداز ہوتا ہے اور بڑی ناگواری کا احساس پیدا کر دیتا ہے۔ مطب کے تجربات شاہد ہیں کہ یہ بچوں اور بوڑھوں میں کم ہوتا ہے۔ البتہ نوجوانوں میں جن کی عمر 20 سال سے لے کر چالیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ تر لوگوں کو ٹانگوں اور بازوؤں پر دیکھنے میں آیا ہے۔ کھوپڑی پر گاہے ہوتا ہے مگر اکثر بفہ ( ڈینڈروف ) سمجھ لیا جاتا ہے اس لیے فرق ضروری ہے۔

اسباب

طب مشرقی کے نزدیک خلط سودا کے سبب ہوتا ہے۔ یعنی جسم بعض سوداوی مادے خارج کرنے میں ناکام رہتا ہے تو مادے اس مرض کا سبب بن جاتے ہیں اور دانوں کی صورت نمودار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ نظام ہضم کی خرابی، میلا کچیلا رہنا، قبض، شراب نوشی، اور جذباتی تناؤ بھی عوامل ہو سکتے ہیں۔ ذہنی دباؤ ( ڈیپریشن ) سے بھی جلد کی سرگرمی بڑھ کر یہ مرض ہو سکتا ہے۔ گرم ممالک کی نسبت مغرب میں یہ مرض زیادہ ہے۔ ماہرین جدید کی رائے میں اس مرض کا سبب وائرس ہے۔

علاج

ذیل کا نسخہ استاد محترم شہید پاکستان حکیم حافظ محمد سعید کا معمولات مطب رہا ہے اور شفاء کے حصول کے لیے تین ماہ تک مسلسل استعمال سے کافی لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔

رسوتچاکسونرکچورکتھ سفید( تمام 3 گرام )

چاروں اجزا پیس کر آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پی لیا جائے۔ سہ پہر کو قرص رسوت ا عدد تازہ پانی لے کر کھا لیں اور شربت عشبہ خاص دو چمچے پی لیں۔

نسخہ نمبر 2: گل منڈی دس عدد، چرائتہ چھ گرام۔

آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر شربت عناب دو چمچے ملا کر صبح نہار منہ پی لیں۔ مغرب میں یہ مرض بہت عام ہے وہاں بڑی تحقیق جاری ہے، مگر ہنوز اس کا شافی علاج ان کے پاس نہیں ہے۔

خارش‘ چنبل اور داد سے بچنے کے آسان طریقے چنبل کا مریض کبھی بھی ایسا صابن استعمال نہ کرے جو جلد کومزید خشک کردے۔ ایسے صابن جو اینٹی بیکٹیریا ہوں جو کہ جراثیموں کو ختم کرتے ہیں قطعی طور پر استعمال نہ کریں کیونکہ ان کے استعمال سے چنبل میں مزید اضافہ ہونے کا خاصا امکان ہے۔

جلد انسانی جسم کا سب سے اہم اور نمایاں عضو ہے۔ وزن کے لحاظ سے یہ کل جسم کا سولہواں حصہ ہے۔ اس کا ایک اہم فعل جسم کو بیرونی اثرات یعنی شدید دھوپ‘ گرمی اور سخت سردی یا مختلف قسم کے جراثیموں سے محفوظ رکھنا ہے۔ موسم گرما میں زیادہ پسینہ انسانی جسم کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتا ہے جبکہ موسم سرما میں جلد میں موجود خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس سے پسینہ آنے کا عمل ختم ہوجاتا ہے اور انسانی جلد کی تیسری تہہ میں موجود چربی جسم کو سردی کے مضراثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ انسانی جلد جہاں موسمی اثرات سے انسان کومحفوظ رکھتی ہے۔ وہاں اسے مختلف نوعیت کی بیماریاں مخصوص موسموں میں زیادہ لاحق ہوسکتی ہیں۔آج کل موسم سرما ہے لہٰذا اس موسم میں بعض جلدی امراض نہ صرف زیادہ ہوتے ہیں بلکہ ان کی شدت میں بھی تکلیف دہ حد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔ موسم سرما میں بعض جلدی بیماریاں اپنی نوعیت کے لحاظ سے خاصی شدت اختیار کرلیتی ہیں ان بیماریوں کے بارے میں ضروری معلومات بہت اہم ہیں تاکہ ان سے بچاجاسکے۔ چنبل:چنبل جلدی الرجی کی ایک خاص قسم ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ ربڑ‘ پلاسٹک‘ دھاتیں خصوصاً مختلف قسم کے کپڑے اور برتن دھونے والے پاؤڈر‘ میک اپ‘ بالوں کو رنگنے والے کیمیکل‘ عطر‘ مختلف قسم کے جوتے‘ دستانے‘ سیمنٹ وغیرہ ہزاروں ایسی چیزیں ہیں جن سے چنبل ہوسکتی ہے ۔ موروثی وجوہات کی بناء پر بھی یہ بیماری جنم لیتی ہے۔ اس بیماری کی اہم علامات خارش کھردراپن اور خشکی‘ متاثرہ جگہ کی رنگت کا گہرا ہونا‘ جلد کا چمڑے کی طرح موٹاہونا۔ موسم سرما میں موسم خشک ہونے کی بناء پر جلد زیادہ خشک اور کھردری ہوجاتی ہے۔ جونہی جلد خشک ہوگی‘ چنبل کے مرض کے حملہ کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور خارش میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ جب یہ مرض بچوں پر اثرانداز ہوتا ہے تو نہ صرف وہ بلکہ والدین بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں بلکہ بچہ کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ وہ تمام رات خارش کرتا رہتا ہے۔ اگر مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ حالت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ احتیاطی تدابیر: ٭ جلد کو ملائم یا چکنا رکھنا بہت ضروری ہے‘ ویزلین کا دن میں کئی مرتبہ استعمال کرنا چاہیے‘ ویزلین (پٹرولیم جیلی) لگانے سے پہلے اگر جلد کو تھوڑا نم کرلیا جائے تو زیادہ فائدہ ہوتا ہے‘ نہانے کے فوراً بعد لگانا بڑا سود مند ہے‘ ویزلین کے علاوہ سرسوں کا تیل‘ گلیسرین اور عرق گلاب کو ہم وزن ملا کر بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ٭ نیم گرم پانی سے نہانا سود مند ہے‘ نہانے کے فوراً بعد گیلی جلد پر تیل کا استعمال بہت سودمند ہوتا ہے۔ ٭چنبل کے مریض کو ہمیشہ سوتی کپڑے پہننے چاہئیں اگر اونی کپڑے پہننے ہیں تو سوتی کپڑے پہن کر اونی کپڑے پہنیں۔ ٭ چنبل کا مریض کبھی بھی ایسا صابن استعمال نہ کرے جو جلد کومزید خشک کردے۔ ایسے صابن جو اینٹی بیکٹیریا ہوں جو کہ جراثیموں کو ختم کرتے ہیں قطعی طور پر استعمال نہ کریں کیونکہ ان کے استعمال سے چنبل میں مزید اضافہ ہونے کا خاصا امکان ہے۔ ہمارے ہاں ہر جلدی بیماری میں جراثیم کش صابن کا بہت استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ خطرناک طرز عمل ہے۔ اس کا استعمال صرف جلدی ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔ ایسے صابن جن میں چکنائی شامل ہو بہتر ہیں۔ ٭کمرے میں ہیٹر نہ لگائیں٭ اپنے ذہن کو بار بار سمجھائیں کہ یہ معمولی سی خارش ہے‘ جلد ختم ہوجائے گی۔ خارش شروع نہ کریں۔ اس سے چنبل میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے۔ ایسے مریض کے ذہن کو خارش کا نشہ ہوجاتا ہے۔ اس نشہ کا ختم کرنا ضروری ہے۔ ایڑھیوں کا پھٹنا: یہ بڑا عام مسئلہ ہے‘ سردی میں پاؤں کی جلد انتہائی کھردری ہوجاتی ہے جس سے ایڑیوں پر گہرے زخم ہوجاتے ہیں اور چلنا پھرنا مشکل ہوجاتا ہے اور شدید درد ہوتی ہے۔ حفاظتی تدابیر: جوتا نرم پہنیں‘ اونچی ایڑی استعمال نہ کریں۔ ٭ دن میں کم از کم تین بار پاؤں نیم گرم پانی میں پانچ منٹ تک ڈبوئیں۔ ٭ گیلی جلد پر لیکوڈ پیرافین اور وائٹ پٹ جیلی برابر وزن میں ملا کر لگائیں۔ ٭ جب تک ایڑیاں صحیح نہ ہوں۔ روئی کا پیڈ متاثرہ جگہ پر رکھ کر بینڈیج کریں اور جرابیں پہن کر چلیں پھریں‘ جب ایڑیاں بہتر ہوجائیں تو اس کی ضرورت نہیں۔ ٭ اگر ایڑیوں پر گہرے زخم ہوجائیں تو ماہر امراض جلد سے رجوع کریں۔ متعدی خارش:سردیوں میں خارش ایک وبا کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہ ذہن نشین رہے کہ ہر خارش متعدی نہیں ہوتی۔ خارش چنبل کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے‘ جگر اور گردے کی خرابی‘ مختلف ادویات کے استعمال سے بھی ہوسکتی ہے۔ متعدی خارش ایک جراثیم سے ہوتی ہے جس کی خاص علامات یہ ہیں:۔ ٭ شدید خارش جو رات کو زیادہ ہوجاتی ہے۔ ٭ ایک ہی جگہ رہنے والے کئی افراد کا اس میں مبتلا ہونا۔ ٭ ہاتھوں کی انگلیوں کی درمیانی جلد‘ انگلیوں کی اطراف‘ کلائی‘ کہنی‘ بغلوں‘ سینہ اور پیٹ‘ اعضائے مخصوصہ اور پاؤں خصوصاً متاثر ہوتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر: جونہی خارش کی بیماری لاحق ہو معالج کو دکھائیں‘ جلد علاج سے ناصرف مریض بہتر ہوجاتا ہے بلکہ بیماری دوسروں تک نہیں پہنچی۔ ٭ اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے تو ایک ہی جگہ رہنے والے تمام افراد اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ متعدی خارش‘ خارش کی وہ بدترین قسم ہے جو اکٹھے رہنے والے کئی افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یوں ایک ہی گھر‘ محلہ‘ سکول‘ ہاسٹل کے کئی اشخاص اس بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بیماری کا سبب ایک چھوٹا سا کیڑا ہے۔ یہ موسم سرما میں زیادہ پھیلتا ہے ایک سے دوسرے کو براہ راست رابطہ یا آلودہ کپڑوں کے استعمال سے ہوتی ہے۔ پاؤں کی پھپھوندی: موسم سرما میں صبح سے شام تک بند جوتے اور جرابیں پہننے سے پاؤں خصوصاً انگلیوں کی درمیانی جگہ کو ہوا میسر نہیں آتی جس کی وجہ سے پھپھوندی کے جراثیم نشوونما پاتے ہیں۔علامات:پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جلد پرشدید خارش رہتی ہے۔ متاثرہ جگہ سرخ ہوجاتی اور زخم بن جاتے ہیں۔ مناسب علاج نہ کرنے سے پھپھوندی کے یہ جراثیم جسم کے دوسرے حصوں پر پھیل جاتا ہے۔ احتیاطیں: پاؤں خشک رکھیں‘ دن میں کم از کم پانچ مرتبہ جوتے اور جرابیں اتار کر پاؤں پانی سے دھو کر اچھی طرح خشک کریں۔ ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی سوزش اور نیلا ہونا: بعض لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں سردیوں میں سرخ اور سوجن کا شکار ہوجاتی ہیں۔ خاصی درد ہوتی ہے‘ بعد میں متاثرہ جلد نیلی ہونی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ ہماری خون کی نالیوں کی موسم میں سرما میں زیادہ حساسیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ احتیاطیں: ہاتھ اور پاؤں دن میں پانچ مرتبہ نیم گرم پانی میں پانچ منٹ ڈبوئیں رکھیں۔ ٭ اونی دستانے اور جرابیں پہنیں۔ ٭ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو ہرحال میں سرد ہوا اور ٹھنڈے پانی سے محفوظ رکھیں۔ داعی الخیر علی رضا جالندھری

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی