بیٹی اک ڈھال

?بیٹی اک ڈھال?اُس کی شادی کو دس سال ہو رہے تھے...قدرت نے اُسے بیٹیوں جیسی رحمت سے نوازا تھا...ہر مرتبہ اُسے خواہش ہوتی کہ بیٹا پیدا ہو...لیکن ھر بار پھول جیسی چھ بیٹیاں اس کے آنگن میں اُتر آئی تھیں...بیٹا نہ ہونے کے سبب خاندان اور گھر والوں کی تلخ باتیں بھی اُسے سھنی پڑ جاتیں...اِس بار پھر اُس کی بیوی کے ہاں ولادت متوقع تھی...لیکن وہ دل میں ہی ڈر رہا تھا کہ اس بار پھر بیٹی پیدا نہ ہو جائے...((اس بار بھی اگر لڑکی پیدا ہوئی تو بیوی کو طلاق دے کر فارغ کر دینا))اُس کی آپا نے اسے دو ٹوک انداز میں کھ ڈالا...بیٹی کہ پیدائش میں بھلا میری بیوی کا کیا قصور...؟؟؟وہ اپنے ہی ذہن میں سوچتا...پھر سر جھٹک کر فیصلوں کو حالات کے دھاری پر چھوڈ دیا...لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا...شیطان کے کاری وار اُس کے دل و دماغ پر اثر کرتے گئے یھاں تک اُس نے پکا ارادہ کر لیا کہ اگر اس بار بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا...!ایک رات وہ سویا تو کیا دیکھتا ہے کہ قیامت بر پا ہو چکی ہے...ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے...میزان عمل میں اس کے گناہوں کا بوجھ اتنا ہے کہ زندگی بھر کی نیکیاں بھی کام نھیں آسکیں اور ان گناہوں کی پاداش میں اس پھر جھنم واجب ہو چکی ہے...فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر جھنم کی طرف گیھسٹتے ہوئے جا رہے ہیں...اس کی چیغ و پکار آہ و بکا کا کچھ بھی اثر نھیں ہو رہا...اچانک کیا دیکھتا ہے کہ جھنم کے دروازہ پر اس کی ایک بیٹی کھڑی ہے...وہ باپ کو دیکھ کر آگے بڑھتی ہے اور فرشتوں کو روک دیتی ہے...فرشتے اِس کو لے کر دوسرے دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں...وہاں پھنچ کر دیکھتا ہے کہ اس کی دوسری بیٹی کھڑی ہے اور فرشتوں کو آگے نہیں جانے دے رہی...فرشتے وہاں سے اِسے لے کر تیسرے دروازے پر جاتے ہیں...وہاں اس کی تیسری بیٹی اپنے باپ کیلئے جھنم سے آڑ بن جاتی ہے...اُس طرح چوتھے...پانچویں...اور پھر چھٹے دروازے تک فرشتے اس کو لے کر جاتے ہیں مگر ہر دروازے پر اس کی بیٹیاں اس کا دفاع کرتی ہیں اور جھنم میں جانے سے روک دیتی ہیں...اب ساتواں دروازے باقی تھا...فرشتے اِس کو زنجیروں میں جکڑے ساتویں دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں...اب اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی کہ اس دروازے پر میرے لئے کون رکاوٹ بنے گا...؟؟؟اسی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں اچانک ہی اُس کی آنکھ کُھل گئی...وہ پَسینے میں شرابور تھا اور جسم پر کپکپی طاری تھی...اسے احساس ہونے لگا کہ شیطان کے بہکاوے میں آکر انتہائی غلط فیصلہ کر بیٹھا تھا...اسی حالت میں اُس نے اللَّہ کے حضور ہاتھ بلند کئے...آنسو اُس کے رخساروں پر بھہ رہے تھے اور لرزتے ہونٹوں سے دعا نکلی...اے اللََّہ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما...آج کے بی دین اور فرسودہ افکار نے سوچ کو اس حد تک گرا دیا کہ بیٹیوں کو رحمت کے بجائے دور جاہلیت کی طرح اور بے عزتی کا سبب خیال کیا جانے لگا ہے...مسلمان معاشرے میں جن لوگوں کا قضا و قدر پر ایمان ہے انہیں لڑکیوں کی پیدائش پر رنجیدہ خاطر ہونے کی بجائے خوش ہونا چاہئے کیونکہ بیٹیاں رحمت خداوند کا حصہ اور جھنم سے بچاو کا ذریعہ ہیں...ایمان کی کمزوری کے باعث جن لوگوں کا یہ تصور بن چکا ہے کہ لڑکیوں کی پیدائش کا سبب ان کی بیویاں ہیں...یہ سراسر غلط ہے...اس میں بیویوں کا یا خود ان کا کوئی عمل دخل نھیں بلکہ میاں بیوی تو صرف ایک ذریعہ ہیں...اولاد کی نعمت سے نوازنے والا صرف الله وحدہ لا شریک ہے...ارشاد باری تعالٰی ہے:?وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے...جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا (جس کو چاہتا ہے ) بیٹے اور بیٹیاں ملا جُلا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے"((سورہ الشوریٰ:49-50))رسول اکرم (ص) نے فرمایا:?جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے احسن طریقے سے ان کی پرورش کی تو اس کے لیے یہ بچیاں جھنم سے بچاو کے لئے ڈھال بن جائیں گی...!

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی