عورت کا انزال یعنی فارغ حمل

ایک سب سےبڑی غلط سوچ‏اکثر لوگ خیال کرتے ہیں کہ جب تک مرد اور عورت کا انزال یعنی فارغ ایک ساتھ نہ ہو اس وقت تک حمل نہیں ہو سکتا اس لۓ اگر مرد کو سرعت انزال کامسلاہو تو اس کو اس قدر امساک کی دوا کھانی چاہئیںجس قدر اس کو عورت کے انزال میں ضرورت ہو سکتی ہے یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی اور حقائق سے لاعلمی ہے مرد اور عورت کا ایک ساتھ انزال یعنی فارغ ہونا یا نہ ہونا قیام حمل میں کوئی معنی نہیں رکھتامرد کے عضو مخصوص کی بناوٹ صرف ایک پچکاری کی حیثیت رکھتی ہے کہ اس سے مادہ منویہ کسی قدر لذت و انتشار اور عورت میں لطف و لذت پیدا کرنے کے ساتھ اس کے جسم میں داخل ہو جاتاہے تو پھر یہ مادہ دس سے پندرہ تک اندر زندہ رہتا ہے سپرم منی اپنا سفر جاری رکھتے ہیں جس سے حمل قائم ہو جاتا ہےاور عورت کے بیضہ جن کے ساتھ مرد کے سپرم حمل قائم کرتے ہیں وہ عورت کے انزال کے ساتھ مشروط نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق عورت کی اس ماہواری کے ساتھ ہے جو اسے ہر مادہ آتی ہے اس کے ساتھ اس کے بیضوں کا اخراج ہوتا ہے ہر حیض کے بعد بیضے رحم میں پاۓ جاتے ہیں اور سپرم منی کو قبول کرکے حمل کا باعث بنتے ہیں مرد عورت پر جب اس کی مرضی کے بغیر مجرمانہ حملہ کرتا ہے تو اس کا انزال عورت کی مرضی کے بغیر ہوتا ہے مگر اولاد ہو جاتی ہے جب عورت پینتالیس اور پچاس کی عمر کو پہنچتی ہےتو اس کا سلسلہ حیض بند ہو جاتا ہے اس صورت میں ہزار بار ایک ساتھ انزال ہو جاۓ مگر کبھی حمل قرار نہیں پاتا ان حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ پیدائش اولاد کے لۓ مرد اور عورت کا ایک ساتھ انزال ہونا ضروری نہیں ہے اس لۓ اس ضرورت کے لۓ امساک کی دوا کا استعمال غیر ضروری اور نقصان کا باعث بنتاہےمذید معلومات اورمشورے کےلیے مجھ سےکال پربات کرےشکریہ

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی