Article on mental health

A must read article on mental health published in jung sunday magzine...

پروفیسر ڈاکٹر محمّد واسع شاکر، کراچی

عالمی ادارۂ صحت کے زیرِ اہتمام ہر سال دنیا بَھر میں ماہِ اکتوبر کی10تاریخ کو ’’ذہنی صحت کا عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے،جس کا مقصد ہر سطح تک ذہنی و دماغی امراض سے متعلق نہ صرف معلومات عام کرنا ہے، بلکہ یہ شعور بھی اُجاگر کرنا ہے کہ اگر خدا نہ خواستہ کوئی فرد کسی ذہنی یا نفسیاتی مرض میں مبتلا ہوجائے، تو اُسے بغیر ہچکچاہٹ، فوری طور پر ذہنی و دماغی امراض کے کسی ماہر اور مستند معالج سے رابطہ کرناچاہیے، تاکہ بروقت علاج کے ساتھ مختلف قسم کی پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رہا جاسکے۔ عالمی سطح پر پہلی بار یہ دِن 1992ء میں ایک تھیم منتخب کرکے منایا گیا۔ جب کہ امسال کے لیے ماہرین نے ’’نوجوانوں کی ذہنی صحت‘‘ کو موضوع بناتے ہوئے"Young people and mental health in a changing world"کاتھیم منتخب کیا ہے۔

موجودہ دَور میں، جدید ٹیکنالوجی کے بَھرپور استعمال کے باوجود آج کا نوجوان متعدد مسائل کا شکار ہے۔ وہ نوجوان، جنہیں اُمید کی کرن سمجھا جاتا ہے کہ عام طور پر نوجوانوں کا تصوّر ذہن میں آتے ہی باہمّت، پھرتیلے، پُرجوش، چاق چوبند، پُرعزم، ہر مشکل کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں ہی کا خاکہ اُبھرتا ہے، اُن کی ایک کثیر تعداد دنیا بَھر کے لیے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کا شمار آبادی کے لحاظ سے اُن مُمالک میں کیا جاتا ہے، جہاں نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق ایشیائی آبادی کا60فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جب کہ پاکستان کی آبادی کا دو تہائی حصّہ،30سال سے کم عُمر افرادپر (جن کی عُمریں14سے30سال کے درمیان ہیں) مشتمل ہے۔ یعنی نوجوان کُل آبادی کا لگ بھگ30فی صد ہیں اور دنیا میں بہت کم مُمالک ایسے ہیں، جہاں نوجوانوں کا کُل آبادی میں تناسب30فی صد یا اس سے زائد ہو۔ اس ضمن میں یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ نے بھی ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق پاکستان میں20کروڑ آبادی کا63فی صد حصّہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ’’کسی بھی فرد کی دماغی حالت یا ذہنی صحت ایک ایسی کیفیت کا نام ہے، جس میں نہ صرف اُس کی صلاحیتوںکی جانچ ہو، بلکہ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی تعمیر میں کردار کا بھی اندازہ ہو۔‘‘ ظاہر سی بات ہے کہ جب نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہوگی، تو اس کے اثرات اُن ہی پرنہیں، اُن کے خاندان اور معاشرے پر بھی مرتّب ہوں گے۔ نوجوانوں کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا جائے، تو بدقسمتی سے اُن میں مختلف ذہنی و نفسیاتی امراض پنپنے کے ساتھ خودکُشی کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رواں برس یوم انسدادِ خودکُشی کے موقعے پر عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بَھر میں سالانہ آٹھ لاکھ افراد خودکُشیاں کررہے ہیں، جن میںاکثریت15سے29برس کے نوجوانوں کی ہے، جب کہ مجموعی طور پر79فی صد خودکُشیاں ترقّی پزیر مُمالک ہی میں ہورہی ہیں۔ پاکستان کی بات کی جائے، تو بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف سائیکایٹری اینڈ بی ہیوریل سائینسز اور شعبۂ نفسیات، بولان میڈیکل کالج، کوئٹہ کے پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کی ایک تحقیق کے مطابق ’’پاکستان میں خودکُشی کرنے والوں میں زیادہ تر18سے35برس تک کی عُمر کے نوجوان شامل ہیں۔‘‘ خیبرپختون خوا کے ضلعے، چترال میں حالیہ چند ماہ کے دوران خودکُشی کے لگ بھگ30کیسز رپورٹ ہوئے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق، ’’چترال قدرتی حُسن سے مالا مال ہونے کے ساتھ مُلک کا سب سے پُرامن ضلع ہے۔ یہاں خواندگی کی شرح80فی صد سے زائد ہے۔تاہم، یہاں نوجوانوں میں خودکُشی کا بڑھتا ہوارجحان ماہرین اور حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ اب تک کے مرتّب کردہ ریکارڈ کے مطابق خودکُشی کرنے والوں کی عُمریں 18 سے 29 برس کے درمیان تھیں۔ جب کہ وجوہ میں امتحانات میں کم نمبرز آنا، ذہنی دبائو، پسند کے خلاف شادی کردینا اور مالی پریشانیاں وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، پچھلے کچھ عرصے میں کراچی میں بھی خودکُشی کے کئی کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تعداد نوجوان لڑکے، لڑکیوں ہی کی ہے۔ واضح رہے کہ خودکُشی، ذہنی صحت کی بدترین کیفیت کا نام ہے۔ اصل میں دماغ انسان کے تمام تر افعال کا کنٹرولر ہے۔ تمام حسّیات اور مزاج اسی کے مرہونِ منت ہیں اور فی زمانہ، ٹیکنالوجی کی حددرجہ ترقّی نے جس طرح بنیادی اخلاقیات کو روند ڈالا ہے۔ انسانی و روحانی اقدار میں زوال اور سماجی زندگی میں روابط کی سخت کمی آگئی ہے۔ ہر طرح کی اسکرین سے 24 گھنٹے کا ربط رہنے لگا ہے۔ نیز، چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، حتیٰ کہ محفل میں بھی اطراف سے بے خبر، لاتعلق رہنا، جسمانی کھیلوں کی بجائے آن لائن گیمز کھیلنا، سیلفی کلچر، دوست احباب سے میل ملاقات کی بجائے واٹس ایپ، فیس بُک کی لَت، ایک نہیں کئی کئی گروپس جوائن کرنا وغیرہ جیسے عوامل نے بھی نوجوانوں کی ذہنی و نفسیاتی صحت تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ پھر مختلف ویڈیو گیمز ذہنی صحت متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کی واضح مثال بلیو وہیل اور مومو چیلنج جیسی ایپلی کیشنز ہیں، جو خودکُشی جیسے انتہائی اقدام کی ویڈیوز بنوانے تک لے جاتی ہیں،تو ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں عمومی طور پر نیند کی کمی، جھنجھلاہٹ، غصّہ، ڈیپریشن اور تنائو سمیت ذہنی صحت متاثر کرنے والے کئی عوارض دیکھے جارہے ہیں۔

یاد رہے، ذہنی اور نفسیاتی صحت برقرار کھنے کے لیے اچھی معاشرت، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، انسانی رویّوں کو سمجھنا، جذبات کی تمام اشکال سے نبردآزما ہونا، جسمانی تن درستی اور متوازن غذا کا استعمال بے حد ضروری ہیں، مگر بدقسمتی سے نوجوان طبقہ ان ہی تمام معاملات سے دُور ہوتا چلا جارہا ہے۔جب کہ ایک دوسرا تاریک پہلو اعصابی امراض کے ماہرین اور ماہرینِ نفسیات کی تشویش ناک حد تک کمی بھی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ماہرین کی کُل تعداد700ہے، جن میں500ماہرینِ نفسیات اور200نیورولوجسٹس ہیں۔ یعنی مُلک کی20 کروڑ آبادی کے لحاظ سے، ہر ڈھائی لاکھ افراد کے لیے صرف ایک ماہر ہے۔ مزید ستم یہ کہ زیادہ تر ماہر ینِ نفسیات صرف بڑے شہروں تک محدود ہیں، جب کہ آبادی کا بیش تر حصّہ دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔

ذہنی صحت کے عالمی یوم کی تھیم کی مناسبت سے ذیل میں چند ایسی تدابیر بیان کی جارہی ہیں، جنہیں اگر اپنالیا جائے، تو ہر فرد، بالخصوص نوجوانوں کی ذہنی ہی نہیں، جسمانی صحت بھی مستحکم رہ سکتی ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے تو دِل کی بہتر دیکھ بھال کی جائے، کیوں کہ جو آپ کے دِل کے لیے اچھا ہے، وہی دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ وہ اس طرح کے کئی طبّی امراض دِل یا خون کی وریدوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جیسا کہ بُلند فشارِ خون، کولیسٹرول کی زیادتی، ذیابطیس اور موٹاپا وغیرہ، تو یہی عوارض دماغی صحت پر بھی مضر اثرات مرتّب کرتے ہیں،لہٰذا سال میں ایک بار باقاعدہ طور پر اپنا طبّی معائنہ کروایا جائے۔ اگر تمباکونوشی یا دیگر نشہ آور اشیاء کی بُری علّت میں مبتلا ہیں، تو ان کا استعمال بالکل ترک کردیں۔ ایسی مثبت جسمانی سرگرمیاں اختیار کی جائیں، جن میں جسم اور ذہن دونوں متحرک رہیں۔ مثلاً چہل قدمی، ورزش، سائیکلنگ، تیراکی، کرکٹ، ہاکی اورفٹ بال وغیرہ۔ اصل میں متحرک رہنا دِل اور دماغ دونوںکے لیے بہترین دوا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایسی سرگرمیاں، جن میں سوچنا اور سیکھنا شامل ہو، دماغ میں نئے خلیے تخلیق کرنے کے ساتھ ان کے مابین تعلق کو مضبوط کرتی ہیں۔ اس ضمن میں کوئی نئی زبان سیکھی جاسکتی ہے،جب کہ مختلف مشاغل مثلاً باغ بانی، ٹکٹس جمع کرنا اور مطالعہ وغیرہ بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اسکول، کالج یا یونی ورسٹی کی سطح پر مختلف ذہنی آزمائش کے مقابلوں یا سماجی سرگرمیوںا ور تقریبات میں بھی حصّہ لیا جاسکتا ہے۔نیز، رضاکارانہ طور پر سماجی خدمت کے اداروں میں بھی کوئی کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔دین سے رغبت، نماز اور تلاوتِ قرآن پاک کی پابندی بھی انتہائی ضروری ہے۔پھرغذا کا بھی ذہنی صحت سے براہِ راست تعلق ہے کہ صحت بخش غذائوں کے استعمال کے ذریعے دماغی صحت اور ذہنی صلاحیت کو طویل عرصے تک برقرار رکھاجاسکتا ہے،لہٰذا ہمیشہ معیاری اور متوازن غذا استعمال کریں۔کم کھائیں، لیکن بروقت اور صاف ستھرا کھاناکھائیں۔سُرخ گوشت اور چاول کی بجائے تازہ پھلوں، سبزیوں، دودھ، شہد، مچھلی اور اناج کے استعمال کو ترجیح دیں۔ پھر سات تا آٹھ گھنٹے کی مکمل پُر سُکون نیند بھی بے حد ضروری ہے کہ یہ دماغ کواُس کی کھوئی توانائی بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جب کہ غصّہ، حسد، لالچ، غیبت اور کینہ پروری جیسےسمیت دیگرمنفی جذبات ذہنی صحت متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں،سو ان سے دُور ہی رہا جائے،تو بہتر ہے۔ ایک اور پہلو جو عام طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ والدین کا اپنے بچّوں کے رویّوں پر نظر نہ رکھنا ہے۔ مشاہدے میں ہے کہ اگر بچّے کے رویّے میں کوئی تبدیلی آرہی ہو، تو زیادہ تر والدین اسے عام سی بات سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔یاد رکھیے، کسی بھی ذہنی بیماری کی ابتدائی علامت، رویّے میں تبدیلی ہی ہے،لہٰذا بدلتے رویّوں کو اِدھر اُدھر کی منطق سے جوڑنے کی بجائے اصل محّرکات پر توجّہ دیں، تاکہ بروقت تشخیص آپ کے بچّے کو کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکے۔ پھربدقستمی سے ہمارے معاشرے میں کئی توہمات بھی عام ہیں۔ زیادہ تر ذہنی امراض کی علامات کو جادو، سحر، نظر، سائےیا آسیب وغیرہ سے تعبیر کرلیا جاتا ہے۔ نتیجتاًحقیقت سے چشم پوشی کرتے ہوئے غیر مستند علاج پر تکیہ کیا جاتا ہے،جس سے نہ صرف مرض بگڑ جاتا ہے،بلکہ پیچیدہ ہوکر ناقابلِ علاج بھی ہوجاتا ہے۔ ا س ضمن میں آگاہی عام کرنے کی سخت ضرورت ہے، تاکہ لوگوں کو ماہرینِ نفسیات سے رجوع کرنے میں کسی قسم کی عار محسوس نہ ہو۔

(مضمون نگار، معروف نیورولوجسٹ ہیں اور بطور پروفیسر آف نیورولوجی، آغا خان یونی ورسٹی اسپتال، کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں)

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی