اندم نہانی بڑے سو راخ

اندم نہانی:بڑے سو راخ کو اندام نہانی کہتے ہیں مرد اپنا عضو تناسل اس کے اندر داخل کر کے ہی مباشرت کرتا ہے حالانکہ یہ عضو ربڑ کی طرح لچکدار ہوتا ہے لیکن شروع میں تنگ ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ پھیل جاتا ہے اندام نہانی کی لمبائی تقریباً چا ر یا پانچ انچ ہوتی ہے لیکن عضو تنا سل کی لمبائی کے مطابق اس کا دباؤ پڑنے پر بڑھ جاتی ہے اندام نہانی کے دوسرے سرے پر رحم یا بچہ دانی کا منہ ہوتا ہے جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو رحم یا بچہ دانی کا منہ بند ہو جا تاہے ۔ یہ تمام اعضاء جسم سے باہر نظرآتے ہیں ۔۷۔اندرونی اعضاء:عورت کے جسم میں بالکل پوشیدہ کچھ اعضاء بھی ہوتے ہیں ۔۸۔ بیضہ یا بچہ دانی:اندام نہانی کے دوسرے سرے پر بچہ دانی کا منہ ہوتا ہے جو امرود کی شکل کا ہوتا ہے جو کہ اندر بچہ دانی سے جڑا ہوتا ہے اس رحم یا بچہ دانی میں ہی بچے کی پیدائش کا عمل شروع ہوتا ہے یہیں انڈے تیار ہوتے ہیں جو مرد کی منی کے کیڑے مل جانے پر بچے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔بچہ دانی کی دیوریں موٹی ہوتی ہیں اور یہ عضلات سے بنی ہوئی ہوتی ہیں ۔عضلات لچک دار ہوتے ہیں اور ان کی لچک کے باعث ہی سکڑنے اور پھلینے کا عمل ہوتا ہے ۔اس عمل کے باعث پیدائش کے وقت بچہ قدرتی طور پر ہی بچے دانی سے باہر آتا ہے بچہ دانی آسانی سے ادھر ادھر ہل جل سکتی ہے اور ضرورت کے مطابق اپنی جگہ بدل سکتی ہے نشوونما حاصل کر کے بچہ جیسے جیسے ماں کے پیٹ میں بڑھتا ہے اسی کے مطابق بچہ دانی میں پھیلنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔مباشرت کے وقت مرد کاعضو تناسل عورت کے عضو مخصوصہ میں داخل ہونے کے بعد جنسی حرکات کے وقت بہت آسانی سے بچے دانی پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور اس سے عورت کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔۹۔ قاذف نالیاں:۔بے دانی سے متصل دو راستے یا دو نالیاں ہوتی ہیں جو قاذف نالیاں کہلاتی ہیں اور بچہ دانی کے دائیں اور بائیں واقعہ ہوتی ہیں ۔دائیں طرف سے یہ نالیاں بچہ دانی سے اور بائیں جانب سے یہ نالیاں بچہ دانی سے ملی ہوتی ہیں۔یہ پیٹ کے نچلے حصے میں کولہے کی ہڈیو ں کے درمیان پیٹرو میں ہوتی ہیں ان نالیوں کا بچے دانی کی طرف سے سرا عموماً سیدھا ہوتا ہے لیکن بیضہ دوانیوں کی طرف سے ان کا سر ا سیدھا نہیں ہوتا بلکہ ایک جھالر کی صورت میں بیضہ دانیوں پر محیط رہتا ہے ان کا اہم کام بیضہ دانیوں میں پیدا ہونے والے بیضہ یا انڈوں کو بچے دانی کی طرف لانا ہوتا ہے ۔٭بیضہ دانیاں:اپنی بناوٹ کے اعتبار سے عجیب و غریب او ر تعداد میں دو ہوتی ہیں ان کی شکل و صورت بادام جیسی لمبائی لگ بھگ ڈیڑھ انچ ، چوڑائی اور موٹائی ایک چوتھائی انچ کے قرے ب ہوتی ہے عورت میں تولید کا زیادہ تر انحصار ان کی کار کردگی پر مشتمل ہوتا ہے بیضہ دانیوں کا کام انڈوں کو پیدا کرناہے عور ت اور مرد کے مباشرت کرنے کے بعد یہی بیضہ مرد کی منی میں پائے جانے والے کرم سے مل کر ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھتا ہے اور آہستہ آہستہ بچے کی شکل اختیار کر کے بچہ دانی میں زیادہ دیر تک پر ورش حاصل کرتا ہے ۔٭سلسلہ تولید کا نظام قدرت:قدرت نے اس کنٹرول کا ایسا نظام قائم کر رکھا ہے کہ ماہرین کی عقل ڈھنگ رہ جاتی ہے لڑکی جب پیدا ہوتی ہے تو اس کے ہر بیضہ دانی میں لگ بھگ ایک لاکھ انڈے موجود ہو تے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک انڈہ ایک خلیے cell کی شکل میں ہوتا ہے اور وہاں یہ ایک قسم کی رطوبت (مالیکل ) میں محفوظ رہتا ہے ۔بچپن میں یہ انڈے جو ں کے توں اس رطوبت میں پڑے رہتے ہیں جب لڑکی جوان ہونے لگتی ہے تو یہ انڈے یا بیضے نشوونما پا کر اپنا کام کرنے لگتے ہیں لیکن لاکھوں انڈے ایک ساتھ کام کرنا نہیں شروع کرتے بلکہ ایک وقت میں ان میں سے ایک ہی سے نشوو نما ہوتی ہے اور یہ ایک ایک کر کے اپنا کام کرتے ہیں ۔یہ ایک بے حد عجیب اور اہم عمل ہے جو لڑکی کے جوان ہونے کے ساتھ لی اپنے آپ سے شروع ہو جاتا ہے اور برسوں تک یہ عمل لگا تا ر جاری رہتا ہے اور اس کی حد اس قوت ختم ہوتی ہے جب عورت میں بچہ پیدا کرنے کی فطری صلاحیت ختم ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ فطرت نے ایک ماہ میں ایک بیضہ کے نشوونما کی صلاحیت بخشی ہے ۔بیضہ کم از کام اڑتالیس گھنٹے تک زندہ رہتا ہے ماہرین کے خیال میں یہ عام حالتوں میں پانچ دن تک زندہ رہتا ہے بیضہ کے بیضہ دانی سے نکل کر قاذف نالی میں آنے سے لے کر اس کے زندہ رہنے کی مدت تک کے دوران اگر مرد، عورت مباشرت کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں عورت حاملہ ہو سکتی ہے ۔بچے دانی اس نئی حالت کے مطابق نئی زندگی کو قبول کرنے کیلئے تیار رہتی ہے ۔ ایک خاص قسم کے ریشوں سے بنی ایک خاص قسم کی جھلی ہر ماہ ایسی تیار کرتی ہے جیسی ہی بیضہ اور کرم مل کر بچہ دانی میں پہنچتے ہیں یہ جھلی مکمل طور پر ان کو محفوظ کرلیتی ہے یہییں سے ماں کے پیٹ میں بچے کی نشو و نما ہونے لگتی ہے ۔اور بعینہ مدت (نو ماہ) کے مسلسل عمل کے بعد بچہ جنم لیتا ہے۔٭مخصوص ہارمونز کی پیدائش:بیضہ دانیوں کا کام بیضہ کی لغزائش کے ساتھ ساتھ مخصوص ہارمونز کی افزائش اور اخراج بھی ہے جو نہ صرف عورتوں کے جسم کے لیے درکا ر ہوتے ہیں بلکہ ان کی خاص اہمیت بھی ہوتی ہے ۔یہ زنانہ ہارمونز دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک طرح کے ہارمونز لڑکی میں لڑکی جیسے وصف پیدا کرتے ہیں اس کی آواز کو سریلا ، نرم و نازک ، پستانوں کی نشو و نما کر کے لڑکی کو عورت کے دیگر لوازمات سے نوازتے ہیں اور یہی ہارمونز ا س کی جسمانی نشو و نما ، جنسی بیداری وغیرہ کے بھی ضامن ہوتے ہیں یہ عورت کی مکمل شخصیت کو ابھار اور نکھار کر اس کے عملی روپ کی واضع تشکیل کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے ہارمونز کاکام خاص بچہ دانی کی ہر ماہ بننے والی جھلی کی نشوو نما کرنا ، حمل کو خاص حالتوں میں پہنچانا اور پورا عرصہ حمل کے دوران بچے کی نشو و نما کا فریضہ انجام دینا ہے ۔

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی