اکسیری جڑی بوٹیوں کی تلاش

ایک دن زویا مغل کے دیس میں اکسیری جڑی بوٹیوں کی تلاش میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کافی دن ہوۓ محترمہ زویا مغل صاحبہ کی طرف سے مسلسل دعوت موصول ہو رہی تھی کہ کشمیر جنت نظیر کا طبی دورہ کیا جاٸے ۔۔لیکن میں اپنی مسلسل مصروفیت کی وجہ سے یہ پروگرام ملتوی کرتا جا رہا تھا ۔۔لاہور کے طبی دورہ سے پہلے ایک بار پھر محترمہ زویا مغل نے دعوت دی کہ وہ کچھ عرصہ کے لیے گجرات سے اپنے آباٸ علا قہ آزاد کشمیر کے اک گا ٶں جا رہی ہیں تو آپ کو ٸ وہاں کا طبی دورہ رکھیں ۔۔میں نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ میں آپ کے آباٸ علاقہ میں آٶں گا ضرور لیکن مریض نہیں دیکھوں گا بلکہ ۔اکسیری جڑی بوٹیوں کی تلاش میں آٶں گا ۔۔۔۔لاہور میں ہی تھا تو جناب حکیم محمد افضل صاحب برسالی آزاد کشمیر سے رابطہ ہوا اور اک اکسیری بوٹی کی بابت بات ہوٸ جو کہ ۔۔۔دل کے امراض کی مجرب ترین دوا ہے ۔۔۔۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ دستیاب ہو جا ۓ گی اسکے علاوہ کچھ مزید اکسیری جڑی بوٹیوں کی بابت بھی حکیم صاحب نے بتا یاکہ ہمارے علاقے میں موجودہیں ۔جس پر میں نے انکے ساتھ پروگرام بنالیاکہ لاہور کے دورے کے بعد آپ کے پاس آٶں گا اورکل صبح اک دوست کے ساتھ صبح دم اپنی گاڑی پر نکلا ۔اورگجرات سےبھمبر روڈ پربے شماردیہاتوں سے ہوتا ہوا۔۔بز رگوال پہنچا۔یہ گاٶں میرے دوست طارق بزرگوال کا ہےمیں زمانہ طالب علمی میں ان کے گھر آتارہا ہوں لیکن چونکہ وقت کی قلت تھی اس لیے ۔کل ان سے ملا قات نہ کر سکا بزرگوال سے کو ٹلہ ارب علی خان پہنچا وہاں سے چڑ یا ٶلہ اور بڑھنگ پہنچے ۔۔یہ آزاد کشمیر کا علاقہ ہے ۔یہاں سے برسالی پہنچے برسالی میں پیارے بھاٸ حکیم محمد افضل صاحب سے ملے کچھ رازو نیاز کی باتیں ہوٸیں ۔۔کافی مدت پہلے میں نے انکے ساتھ اک وعدہ کیا تھا وہ وفإ کیا انہوں نے بھی کچھ قیمتی تحاٸف سے نوازا جس پر ان کا بے حد مشکور ہوں ۔یہیں بیٹھا تھاکہ محترمہ زویا مغل صاحبہ کی کال آگٸ کہ سرکہاں ہیں ۔۔میں نے بتایا تو کہنے لگیں کہ آپ میرے گاٶں سے کچھ فاصلہ پر ہی ہیں ۔۔کھانامیرے ہاں کھاٸیں ۔۔حکیم افضل صاحب سے اجازت چاہی تو انہوں نے کہا کہ کھانا تیار ہے کھانا میرے پاس ہی کھاٸیں ۔۔وہ زبردستی مطب سے گھر لے گٸے ۔کھانا ان کے ساتھ کھایا اور محترمہ زویا مغل صاحبہ کو فون کر کے کھانے سے معزرت کی اور کہا کہ چا ٸے آپ کے ہاں پیٸیں گے ۔۔حکیم افضل صاحب سے اجازت لے کر کچھ راستہ معلوم کرکے کڈالہ برنالہ سے ہوتے ہو ٸے محترمہ زویا مغل صاحبہ کے گھر پہنچے ۔۔محترمہ نے پر تکلف چا ٸے کا اہتمام کیا ہوا تھا ۔۔اور چا ٸے کے ساتھ گرما گرم پیزا بھی کھلایا ۔۔کچھ وقت ان کے پاس گزار کر ہم واپسی کے لیے روانہ ہوٸے ۔۔راستہ میں جلالپور جٹاں میں سٹر ک سے گزرتے ہوٸے فیس بک فرینڈ حکیم شہزاد سنیاسی صاحب کے دواخانہ پر نظر پڑی میں نے دیکھ کر گا ڑی روک لی ۔حکیم شہزاد سنیاسی مجھے دیکھ کر فوراباہر آگٸے بڑے تپاک سے ملے چا ٸے منگوا لی پوچھنے لگے کدھر گھوم رہے ہیں ۔۔میں نے بتایاکہ آزاد کشمیر گیا ہوا تھا ۔کچھ دیر ان کے پاس آرام کیا چا ٸے پی اورپھر وہاں سے گجرات اور گجرات سے رات گٸے گھر واپس پہنچ گیا ۔۔۔جن تمام دوستوں نے محبتوں سے نوازا ان کا بے حد شکریہ جن دوستوں سے ملاقات نہیں ہو سکی ان سے معزرت اور انشإاللہ بشرط زندگی دوبارہ ملا قات ہو گی ۔۔۔آزاد کشمیر کا علاقہ مجھے بھت ہی خوبصورت اور پیارالگا۔۔کروڑوں روپے کی قیمتی جڑی بوٹیوں سے مالامال ہے۔بے شمار اکسیری خواص کی روز مرہ استعمال میں آنے والی وافر جڑی بوٹیاں موجود ہیں ۔۔میں نے محترمہ زویامغل صاحبہ کو مشورہ دیا ہے کہ اس علاقہ میں بھی با قاعدہ اک مطب بناٸیں ۔۔۔اور گجرات کے ساتھ ساتھ اس علاقہ میں بھی خدمت خلق کا کام کریں ۔۔اس کام کے لیے میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ فراغت ملنے پر جلد بیوی بچوں کے ساتھ دو تین دن کے سیا حتی پروگرام پر ان کے ہاں آٶں گا۔۔۔۔۔۔ انشإاللہ

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی