اختلافات میں مبتلا

وہ اپنی پھلوں کی ریڑھی لے کر مسجد کے ساتھ لگے درخت تک آیا۔ کچھ دیر سستانے کی غرض سے درخت کے تنے سے ٹیک لگا لی اور آتے جاتے لوگوں پر نظر ڈالی۔ظہر کا وقت تھا نمازی مسجد میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔اچانک اس نے دیکھا کہ تین چار لوگ مل کر ایک نمازی کو بازوؤں سے پکڑ کر باہر کی طرف لا رہے تھے۔ وہ لوگ کافی غصے میں دکھائی دے رہے تھے۔ ان میں سے ایک بولا" اندھا تھا تجھے یہ اتنا بڑا لکھا نظر نہیں آیا کہ اس مسجد میں فلاں فرقے کا داخلہ منع ہے۔ آ جاتے ہیں منہ اٹھا کہ"اسے باہر چھوڑ کر وہ افراد واپس اندر کی طرف چلےگئے۔ نوجوان بھی کچھ دیر وہاں کھڑا رہنے کے بعد ایک طرف کو مڑ گیا، پھل فروش سیدھا سادہ سا بندہ تھا حیرت سے یہ ماجرا دیکھا اور ریڑھی کو ڈھانپ کر مسجد کی طرف نماز کی نیت سے چل دیا۔نماز سے فراغت کے بعد ایک شخص وہیں اس پھل فروش کے ساتھ آ بیٹھا۔ یہ شخص انہی میں سے ایک تھا جو اس نوجوان کو باہر نکال رہے تھے۔پھل فروش نے اسے مخاطب کیا۔السلام علیکم بھائی، ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے اس نوجوان کو باہر کیوں نکال دیا؟ کیا وہ مسلمان نہیں تھا؟ ""وعلیکم السلام، وہ مسلمان تھا لیکن ہمارے فرقے کا نہیں تھا" اس شخص نے جواب دیا۔"کیا مطلب، اگر وہ مسلمان تھا تو کیا آپ کا فرقہ مسلمان نہیں؟" ہم مسلمان ہیں لیکن اس کا اور ہمارے فرقہ الگ ہے" وہ شخص بولا۔"اگر وہ بھی مسلمان تھا آپ بھی مسلمان ہو تو فرقہ کیسا؟ یہ فرقہ کیسی بری چیز ہے جس نے مسلمان کو مسلمان سے الگ کر دیا " سادہ لوح پھل فروش کی الجھن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔"دیکھو بھائی، بات اتنی سی ہے کہ اسکا فرقہ غلط ہے۔ ہمارا فرقہ درست ہے۔ وہ غلط راستے پہ ہے ہم سیدھے راستے پر ہیں۔ اسی لیے اسے یہاں آنے اور ہم میں شامل ہونے کا حق نہیں" اس شخص نے وضاحت سے بات سمجھائی۔"لیکن بھائی آپکو کیسے پتہ چلا کہ اسکا راستہ غلط اور آپکا درست ہے؟پھل فروش نے سوال کیا۔" کتابوں سے، کتابیں رہنمائی کر دیتی ہیں۔ "" بھائی مگر کتابیں تو اس کے فرقے والوں نے بھی لکھی ہوں گی نا؟کون بتا سکتا کہ کس کی لکھی غلط کس کی ٹھیک، لکھنے والے بھی مر گئے، اتنے برس بیت گئے۔دنیا میں تو ایک بات بھی دوسرے سے تیسرے تک جائے تو لفظوں کا ہیر پھیر ہو جاتا، مفہوم بدل جاتا ہے، کتابیں بھی کتنے ہاتھوں میں آئی گئی ہوں گی۔اصل اب تک کہاں ہو گا۔ اصل حالت میں تو بس ایک ہی کتاب ہے کیونکہ اس کا ذمہ خود اللہ تعالی نے لیا"۔پھل فروش کی اس بات پر وہ شخص کچھ نہ بولا بس سوچتی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔"اچھا بھائی ایک اور بات تو بتاؤ، مرنے کہ بعد سوالات میں کیا یہ بھی پوچھا جائے گا کہ تم کس فرقے سے ہو؟" نہیں، یہ سوال نہیں کیا جائے گا "بھائی بروز محشر جب ہر امت اپنے نبی کے ساتھ اٹھے گی تو کیا تب یہ اعلان بھی کیا جائے گا کہ فلاں فلاں فرقے کے لوگ حاضر ہوں؟پھل فروش نے اگلا سوال کیا۔"نہیں وہاں ایسا نہیں ہوگا۔ "بھائی کیا قیامت کے روز ہم سے یہ پوچھا جائے گا کہ نبی کی درست سن پیدائش کون سی تھی۔؟رسول کس سے زیادہ پیار کرتے تھے؟فلاں عالم سچا تھا یا جھوٹا؟فلاں ولی حق پہ تھا یا نہیں؟فلاں صحابی نے درست کیا یا غلط؟"نہیں وہاں ایسا کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔ وہاں ہر کوئی صرف اپنے عمل کا حساب دے گا۔" اب الجھن پھل فروش کے نہیں بلکہ اس شخص کے چہرے پر تھی۔پھل فروش نے مسکرا کر کہا،" تو بھائی پھر تم تفرقے میں پڑے ہی کیوں ہو۔ اس چیز کا کیا فائدہ جو تمہیں کسی قسم کا نفع نہیں دیتی بلکہ الٹا تمہارا نقصان کرتی ہے۔ اپنے اپنے فرقوں کی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہونے کے بجائے تم وہ سچا قرآن کیوں نہیں پڑھتے جو اللہ نے اتارا ہے۔اور بھائی خدارا اب یہ مت کہنا کہتم قرآن پڑھتے ہو کیونکہ اگر تم قرآن پڑھتے ہوتے تو تم نے وہ آیت بھی ضرور پڑھی ہوتی جس میںاللہ نے واضح الفاظ میں تفرقے میں پڑنے کی ممانعت فرمائی۔پھل فروش اتنا بول کر مسجد سے باہرکی جانب چل دیا اور اپنے پیچھے خاموشی چھوڑ گیا۔ روح کو جھنجھوڑ دینے والی خاموشی!وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۖ َ"سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو"( Al 'Imran 3: Verse 103)

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ ۗ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ"کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روزسخت سزا پائیں گے"( Al 'Imran 3: Verse 105)

اس موضوع کو جواب دیں

یہ سائٹ انفرادی کمپیوٹر، پرسنل سروس سیٹنگ، تجزیاتی و شماریاتی مقاصد، مواد اور اشتہارات کی کسٹمائزیشن میں فرق تلاش کرنے کے لئے کوکیز اور دوسری ٹریکنگ ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتی ہے نجی معلومات کی حفاظتی اور کوکیز پالیسی